کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر بس بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد کے قریب ایک گہری کھائی میں جا گری، جس کے نتیجے میں کم از کم 40 افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حادثہ لسبیلہ کے قریب پیش آیا جب تیز رفتار بس ایک پل کے ستون سے ٹکرا کر آگ کے گولے میں تبدیل ہو گئی۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق بس ڈرائیور تیز موڑ کاٹتے ہوئے گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا، جس کے بعد گاڑی سڑک سے اتر کر کھائی میں جا گری۔ حادثے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ بس میں موجود زیادہ تر مسافر موقع پر ہی جھلس کر ہلاک ہو گئے۔
ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرنے والے مقامی افسر حمزہ انجم نے بتایا کہ "ہم نے اب تک 40 لاشیں نکال لی ہیں۔ زیادہ تر لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں جن کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروانا پڑے گا۔”
حادثے میں 8 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ حادثے کے فوری بعد بس میں آگ لگ گئی، جس کی وجہ سے امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ جائے وقوعہ تک پہنچنے کا راستہ انتہائی کٹھن تھا اور جب تک فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پہنچیں، بس مکمل طور پر جل چکی تھی۔
اس علاقے میں سڑکوں کی خستہ حالی اور پہاڑی راستوں پر حفاظتی جنگلوں کا نہ ہونا روز کا معمول ہے۔ طویل سفر کرنے والی مسافر بسوں کی تیز رفتاری اور ڈرائیوروں کی غفلت یہاں آئے روز بڑے حادثات کا سبب بنتی ہے۔ یہ سڑک اپنے تنگ موڑوں اور خطرناک ڈھلوانوں کے لیے مشہور ہے، جہاں ماضی میں بھی کئی جان لیوا حادثات ہو چکے ہیں۔
صوبائی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم تو دے دیا ہے اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے حفاظتی معیارات کا جائزہ لینے کا وعدہ کیا ہے، لیکن لواحقین کا کہنا ہے کہ ان وعدوں سے ان کے پیاروں کی زندگیاں واپس نہیں آئیں گی۔
فی الحال امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے سے لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ حادثے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور حکام کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل کرنا ہے۔
