انقرہ: وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ سرکاری دورے پر منگل کے روز ترکیہ پہنچ گئے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مستحکم کرنا اور ترکیہ کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کو بڑھانا ہے۔ ایبسنبوگا ایئرپورٹ پر ترک حکام اور پاکستانی سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
پاکستان اپنی لڑکھڑاتی معیشت کو برآمدات اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے سنبھالا دینے کے لیے کوشاں ہے۔ ترکیہ ایک دیرینہ تزویراتی شراکت دار ضرور ہے، مگر حالیہ برسوں میں باہمی تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر سے اوپر جانے میں ناکام رہا ہے، جو دونوں حکومتوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف صدارتی محل میں صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ون آن ون ملاقات کریں گے۔ بات چیت کا محور ‘ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل’ ہوگا، جس کا مقصد دفاعی خریداری، توانائی کے منصوبوں اور زرعی ٹیکنالوجی کے تبادلے کو تیز کرنا ہے۔
وزیراعظم کے ہمراہ موجود ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ "ہم محض رسمی ملاقاتوں سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ہماری توجہ توانائی کے شعبے میں ٹھوس نتائج پر مرکوز ہے۔”
ترکیہ کے لیے یہ دورہ جنوبی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کا ایک سفارتی اشارہ ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ ترک کمپنیوں کو — جنہوں نے ماضی میں لاہور کے پبلک ٹرانسپورٹ اور ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی تھی — پاکستان کے نجکاری پروگرام میں شامل ہونے پر آمادہ کر سکے۔
دونوں رہنما علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے، جس میں غزہ میں جاری انسانی بحران اور وسطی ایشیا کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست شامل ہے۔ دونوں ممالک ان معاملات پر ہم آہنگ تو ہیں، تاہم دونوں ملکوں میں موجود معاشی دباؤ نے ان کی سفارتی اثر انگیزی کو محدود کر رکھا ہے۔
یہ دورہ بدھ کو مکمل ہوگا۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ ملاقاتیں کسی ٹھوس تجارتی معاہدے کی شکل اختیار کرتی ہیں یا توانائی کے شعبے میں زیرِ بحث منصوبوں کی تفصیلات تک ہی محدود رہتی ہیں۔
