محکمہ موسمیات نے اگلے 48 گھنٹوں کے دوران جنوب مشرقی سندھ کے مختلف اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ بحیرہ عرب سے اٹھنے والا یہ موسمیاتی نظام خطے میں جاری شدید گرمی کی لہر کو تو توڑ دے گا، تاہم حکام نے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
متاثرہ علاقوں میں تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص اور بدین سرفہرست ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کے ساتھ تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے، جس سے فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ "ہم نمی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ بارش کی شدت بدھ کی شام تک عروج پر ہو سکتی ہے، جس کے دوران کہیں کہیں موسلا دھار بارش کا بھی امکان ہے۔”
مقامی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ شہروں میں میونسپل ٹیموں کو برساتی نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے—جو اکثر ایسی صورتحال میں ناکام ثابت ہوتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ طوفانی ہواؤں کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کمزور ڈھانچوں کو محفوظ بنائیں۔
یہ موسمیاتی تبدیلی ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب خطہ طویل عرصے سے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جس نے مقامی بجلی کے نظام اور پانی کی سپلائی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ تھرپارکر کے خشک علاقوں میں یہ بارش کسانوں کے لیے ملے جلے جذبات کا باعث ہے؛ جہاں یہ چراگاہوں کے لیے تو سود مند ثابت ہوگی، وہیں حساس فصلوں کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق یہ موسمی نظام جمعرات تک مشرق کی جانب بڑھ جائے گا، جس کے بعد صوبے بھر میں موسم بتدریج صاف ہونا شروع ہو جائے گا۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطے کا بوسیدہ انفراسٹرکچر شدید گرمی سے اچانک بارشوں کی طرف منتقلی کے اس دباؤ کو برداشت کر پائے گا یا نہیں۔
