وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شیزہ فاطمہ خواجہ نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ ٹیلی کام قوانین جدید دور کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرانے ضوابط 5G کی تنصیب اور جدید ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
وزارت کی جانب سے یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت پر 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ صنعت سے وابستہ ماہرین طویل عرصے سے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر قوانین کو اپ ڈیٹ نہ کیا گیا تو پاکستان خطے کے ان ممالک سے مزید پیچھے رہ جائے گا جو پہلے ہی 5G کو اپنی صنعتی اور تجارتی ترقی کا حصہ بنا چکے ہیں۔
منگل کے روز ایک کمیٹی اجلاس کے دوران وزیر آئی ٹی نے واضح کیا کہ موجودہ قانونی ڈھانچہ جدید ڈیجیٹل خدمات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور انہیں ریگولیٹ کرنے سے قاصر ہے۔ ان کے مطابق، قانون اور ٹیکنالوجی کے درمیان یہ خلیج نہ صرف مقامی جدت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔
پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر تاحال ‘پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996’ کے تحت چل رہا ہے۔ یہ قانون جس وقت بنایا گیا تھا، اس کا مقصد موبائل فون کی ابتدائی خدمات کو منظم کرنا تھا۔ آج کے دور میں، جب کلاؤڈ انفراسٹرکچر، ڈیٹا پروٹیکشن اور 5G کی تیز رفتار انٹرنیٹ خدمات ناگزیر ہیں، یہ ایکٹ اپنی افادیت کھو چکا ہے۔
نئے مجوزہ بل کا مقصد ریگولیٹری ماحول کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ہے۔ وزارت کی کوشش ہے کہ ایسا لچکدار ڈھانچہ تشکیل دیا جائے جو ٹیکنالوجی میں ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ڈھال سکے۔ اس بل میں لائسنسنگ کے عمل کو آسان بنانے اور اسپیکٹرم شیئرنگ کے لیے واضح اصول وضع کرنے پر زور دیا گیا ہے، جو کہ 5G کی سستی اور مؤثر تنصیب کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
تاہم، قانون سازی کا یہ عمل اتنا آسان نہیں ہوگا۔ اپوزیشن ارکان نے بل کے مسودے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے نام پر ڈیجیٹل پرائیویسی اور نگرانی کے معاملات پر حکومت کو محتاط رہنا ہوگا، تاکہ ترقی کے حصول میں شہریوں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
وزارت آئی ٹی رواں ماہ کے آخر تک بل کا حتمی مسودہ کابینہ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کیا حکومت پارلیمنٹ سے اس وسیع تر قانون سازی کو منظور کروا پائے گی، اور کیا اس تبدیلی سے عام صارف کو واقعی تیز تر انٹرنیٹ میسر آئے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں ہی ملے گا۔
