پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے 47 نئے براڈ بینڈ لائسنس جاری کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ان دور دراز علاقوں تک ڈیجیٹل رسائی ممکن بنانا ہے جہاں اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت یا تو موجود نہیں یا انتہائی ناقص ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں موجود ایک بڑے خلا کو پر کرنے کی کوشش ہے۔ جہاں بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کی سہولیات بہتر ہو رہی ہیں، وہیں بلوچستان، خیبر پختونخوا کے دور افتادہ اضلاع اور دیہی سندھ کے لاکھوں شہری اب بھی ڈیجیٹل دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔ نئے لائسنسوں کے تحت آپریٹرز پابند ہوں گے کہ وہ ان علاقوں میں نیٹ ورک بچھائیں جنہیں کمرشل کمپنیاں اب تک غیر منافع بخش قرار دے کر نظر انداز کرتی رہی ہیں۔
پی ٹی اے کا یہ فیصلہ گزشتہ ایک برس کے دوران انٹرنیٹ کے معیار پر اٹھنے والے سوالات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ریگولیٹر کو امید ہے کہ مارکیٹ میں نئے کھلاڑیوں کے آنے سے مسابقت بڑھے گی، جس کا براہِ راست فائدہ صارفین کو قیمتوں میں کمی اور سروس کے معیار میں بہتری کی صورت میں ملے گا۔
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہماری توجہ اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کسی دور دراز گاؤں کے طالب علم کو بھی وہی ڈیجیٹل سہولیات میسر ہوں جو اسلام آباد یا لاہور میں رہنے والے کسی بھی شخص کو حاصل ہیں۔”
ان لائسنسوں میں فائبر آپٹک اور وائرلیس براڈ بینڈ سمیت جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ پی ٹی اے نے آپریٹرز کو نیٹ ورک کی تنصیب کے لیے 18 ماہ کا سخت ٹائم لائن دیا ہے۔ ڈیڈ لائن پر عمل نہ کرنے کی صورت میں لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے اور جمع کرائی گئی سیکیورٹی ضبط کر لی جائے گی۔
ماہرینِ ٹیکنالوجی اس پیش رفت کو محتاط نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا یہ سیلاب خوش آئند ضرور ہے، لیکن اصل امتحان ان کمپنیوں کی آپریشنل صلاحیت ہے۔ پاکستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور صحرائی خطوں میں فائبر بچھانا یا ٹاورز لگانا بھاری سرمایہ کاری کا متقاضی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ نئے لائسنس ہولڈرز ان تکنیکی اور مالی مشکلات کا سامنا کر سکیں گے، یا پھر وہ بھی صرف بڑے شہروں کے مضافات تک محدود رہیں گے؟ حکومت کو امید ہے کہ نئے آپریٹرز کا یہ نیٹ ورک ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، تاہم زمینی حقائق تبدیل ہونے میں ابھی کئی ماہ لگیں گے۔
