کیتن اگروال کے والد نے اپنے بیٹے کی موت کے معاملے میں انصاف کے حصول کے لیے اب براہِ راست ملک کے اعلیٰ ترین دفتر کا رخ کر لیا ہے۔ صدر دروپدی مرمو کو لکھے گئے ایک جذباتی خط میں انہوں نے تحقیقات میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ کیس اب ان تمام لوگوں کے لیے ایک علامت بن چکا ہے جو مقامی تحقیقاتی نظام کی فعالیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اگروال خاندان کے لیے، واقعے کے بعد گزرنے والے مہینے صرف قانونی الجھنوں اور پولیس کی سرد مہری کی داستان ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ تفتیش کے دوران اہم شواہد کو نظر انداز کیا گیا اور کلیدی گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے میں غیر ضروری تاخیر برتی گئی۔
کیتن کے والد نے اپنی درخواست میں لکھا، "ہم کسی رعایت کے طلبگار نہیں ہیں، ہم صرف سچائی تک پہنچنا چاہتے ہیں۔” انہوں نے ان تیکنیکی خامیوں کی نشاندہی کی ہے جن کی وجہ سے کیس کی فائلیں مہینوں سے زیر التوا ہیں، اور خبردار کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جائے وقوعہ کے شواہد اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔
اس معاملے پر نظر رکھنے والے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر شنوائی نہ ہونے کے بعد خاندان کا صدرِ ہند سے رجوع کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں ضلعی انتظامیہ اور تفتیشی اداروں پر اعتماد نہیں رہا۔ راشٹرپتی بھون تک رسائی حاصل کرنا دراصل اس نظام کی ناکامی کا اعتراف ہے جو عام شہری کو فوری انصاف فراہم کرنے میں قاصر رہا ہے۔
اگرچہ صدر کا دفتر عام طور پر جاری مجرمانہ تحقیقات میں براہِ راست مداخلت سے گریز کرتا ہے، تاہم ایسی درخواستیں اکثر متعلقہ حکام کو جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتی ہیں۔ اس اقدام سے مقامی پولیس پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ تفتیش کی موجودہ صورتحال پر ایک جامع رپورٹ پیش کرے اور ان وجوہات کی وضاحت کرے جن کی بنا پر کیس التوا کا شکار ہے۔
کیتن کے اہل خانہ کے وکلاء اب ہائی کورٹ میں نئی درخواستیں دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کا مقصد صدر کو بھیجی گئی اپیل کے ساتھ ساتھ عدالتی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کرنا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ بیرونی نگرانی کے بغیر یہ تفتیش نوکر شاہی کی فائلوں میں دفن ہو کر رہ جائے گی۔
فی الحال، اگروال خاندان ایک غیر یقینی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ ان کی نظریں اب نئی دہلی سے آنے والے کسی اشارے پر ٹکی ہیں، جو شاید اس کیس میں شفافیت لا سکے جس کے لیے وہ اپنے بیٹے کی موت کے بعد سے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔
