کراچی — گلشنِ اقبال میں دندان ساز کے نو سالہ بیٹے کو اغوا کے نو گھنٹے بعد پولیس نے بازیاب کروا لیا، تاہم ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
بچے کو منگل کی شام اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ گھر کے باہر موجود تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد نے بچے کو زبردستی گاڑی میں ڈالا اور تیزی سے موقع سے فرار ہو گئے۔ اس واقعے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔
واردات کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے شہر کے مشرقی اضلاع میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ تفتیشی ٹیموں نے جیوفینسنگ اور موبائل ٹریکنگ کی مدد سے ملزمان کے ٹھکانے کا سراغ لگایا۔ بدھ کی صبح تین بجے کے قریب پولیس نے مضافاتی علاقے میں واقع ایک مکان پر چھاپہ مارا۔
پولیس کے محاصرے کے دوران ملزمان قریبی کچی آبادیوں کی طرف بھاگ نکلے۔ آپریشن میں شریک ایک اعلیٰ پولیس افسر نے میڈیا کو بتایا کہ "ہم نے انہیں گھیرے میں لیا تھا، لیکن علاقے کی جغرافیائی ساخت اور تاریکی نے انہیں فرار ہونے میں مدد دی۔ ہماری اولین ترجیح بچے کی بحفاظت بازیابی تھی، نہ کہ فائرنگ کا تبادلہ۔”
بازیاب ہونے والا بچہ خیریت سے ہے، تاہم وہ شدید صدمے کی حالت میں ہے۔ اسے طبی امداد کے بعد اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اگرچہ بچہ بازیاب ہو چکا ہے، لیکن اس واقعے نے کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور تاوان کے لیے اغوا کرنے والے گروہوں کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ علاقے کے تاجروں اور طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے خوف میں مبتلا ہیں اور اب مستقل سیکیورٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پولیس تفتیشی ٹیمیں گھر کے قریب لگے نجی سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان کئی روز سے خاندان کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
بدھ کی دوپہر تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ پولیس کی ٹیمیں شہر کے مضافاتی علاقوں میں چھاپے مار رہی ہیں تاکہ مفرور ملزمان تک پہنچا جا سکے۔ فی الحال متاثرہ خاندان نے میڈیا سے دوری اختیار کر رکھی ہے، جبکہ پولیس حکام نے ملزمان کی گرفتاری کے بعد مزید تفصیلات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
