تھائی لینڈ کے صوبے کالا سین میں ماہرینِ حیاتیات نے ایک ایسی نئی ڈائنوسار نسل دریافت کی ہے جس کی لمبائی 22 میٹر ہے—یعنی ایک معیاری کرکٹ پچ کے برابر۔ یہ دریافت جنوب مشرقی ایشیا میں قدیم دور کے دیو ہیکل جانوروں کی موجودگی کے بارے میں نئی معلومات فراہم کرتی ہے۔
یہ باقیات ابتدائی کریٹیشیس دور کے چٹانی سلسلوں سے ملی ہیں، جو تقریباً 13 کروڑ سال پرانے ہیں۔ ماہرین نے مہینوں کی محنت کے بعد ان ہڈیوں کو زمین کی تہوں سے نکالا، جس سے اس خطے کی تاریخی اہمیت مزید واضح ہو گئی ہے۔
یہ محض ہڈیوں کا ڈھانچہ نہیں، بلکہ اس دور کے ایک پھلتے پھولتے ماحولیاتی نظام کا ثبوت ہے۔ اس جانور کی لمبی گردن اور دم سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اونچے درختوں کے پتوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جہاں تک پہنچنا چھوٹے چرندوں کے بس کی بات نہیں تھی۔
کھدائی میں شامل ایک ماہر کا کہنا ہے کہ "فقرات جس حالت میں ملے ہیں وہ غیر معمولی ہے۔ اس سے ہمیں ان جانوروں کے جسمانی ڈھانچے اور حرکت کو سمجھنے میں ایسی مدد ملے گی جو عام طور پر بکھری ہوئی باقیات سے ممکن نہیں ہوتی۔”
تھائی لینڈ میں ماضی میں بھی ڈائنوسار کی باقیات ملتی رہی ہیں، لیکن یہ دریافت اپنی مکمل ساخت کی وجہ سے منفرد ہے۔ اس خطے میں ملنے والی زیادہ تر ہڈیاں کٹاؤ یا وقت کی وجہ سے بکھری ہوئی ہوتی ہیں۔ 22 میٹر طویل اس دیو ہیکل جانور کا ڈھانچہ ملنا، چین اور جنوبی امریکہ میں ملنے والے ڈائنوسارز کے ساتھ موازنہ کرنے کے لیے ایک نیا معیار فراہم کرے گا۔
فی الحال یہ باقیات سریندھورن میوزیم میں تجزیے کے لیے موجود ہیں۔ ماہرین اس کے پیڑو کی ساخت کا موازنہ دیگر نسلوں سے کر رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ ارتقائی تاریخ میں اس کا مقام کہاں بنتا ہے۔
یہ دریافت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ قدیم تھائی لینڈ کے سرسبز اور دریائی خطے زمین پر چلنے والے سب سے بڑے جانوروں کے مسکن تھے۔ جیسے جیسے تجزیہ آگے بڑھے گا، توجہ اس بات پر مرکوز ہو گی کہ یہ جانور کیا کھاتے تھے اور اپنے دور کے شکاری ڈائنوسارز کے ساتھ ان کا تعلق کیسا تھا۔
کالا سین میں موجود یہ مقام تاحال ماہرین کی نگرانی میں ہے، جہاں مزید کھدائی سے ڈھانچے کے باقی حصوں کے ساتھ ساتھ کریٹیشیس دور کے ان دیو ہیکل جانوروں کے مزید راز سامنے آنے کی توقع ہے۔
