ایپل نے اپنے نئے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ، آئی او ایس 18 کے ذریعے بچوں کی آن لائن حفاظت کے طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ کمپنی اب روایتی نگرانی کے بجائے ایک مربوط اور مصنوعی ذہانت پر مبنی فریم ورک متعارف کرا رہی ہے، جس کا مقصد غیر موزوں مواد کو اسکرین پر نمودار ہونے سے پہلے ہی روکنا ہے۔
اس تبدیلی کا اہم ترین حصہ ’کمیونیکیشن سیفٹی‘ میں توسیع ہے۔ ماضی میں یہ سسٹم صرف بچوں کو حساس تصاویر کے بارے میں خبردار کرتا تھا، لیکن اب یہ آن ڈیوائس مشین لرننگ کے ذریعے نہ صرف آئی میسج بلکہ دیگر ایپس میں بھی ویڈیوز اور تصاویر میں غیراخلاقی مواد کی نشاندہی کرے گا۔ ایپل کا دعویٰ ہے کہ یہ سارا ڈیٹا ڈیوائس پر ہی پروسیس ہوتا ہے، جس سے پرائیویسی متاثر نہیں ہوتی۔
والدین کے لیے کنٹرول پینل اب پہلے سے کہیں زیادہ تفصیلی ہے۔ آپ اب اسکرین ٹائم پر ایسی سخت پابندیاں لگا سکتے ہیں جنہیں ختم کرنے کے لیے فزیکل پاس کوڈ یا فیس آئی ڈی کی تصدیق لازمی ہوگی۔ اس سے وہ راستہ بند ہو گیا ہے جس کے ذریعے بچے ڈیجیٹل پرامپٹ کے ذریعے خود ہی وقت میں اضافہ کر لیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ، سفاری براؤزر میں ’ڈسٹریکشن کنٹرول‘ کا فیچر شامل کیا گیا ہے، جس سے والدین پاپ اپس یا خود بخود چلنے والی ویڈیوز کو ہائیڈ کر سکتے ہیں، جو اکثر بچوں کو غلط مواد کی طرف لے جاتی ہیں۔
یہ تبدیلیاں صرف پابندیوں تک محدود نہیں، بلکہ نگرانی کو مزید شفاف بناتی ہیں۔ اپ ڈیٹ شدہ ’فیملی شیئرنگ‘ ڈیش بورڈ اب ہفتہ وار رپورٹ فراہم کرتا ہے، جس میں صرف یہ نہیں بتایا جاتا کہ بچے نے کتنا وقت استعمال کیا، بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ وقت کن ایپس پر اور کس نوعیت کے کاموں میں صرف ہوا۔
اس اپ ڈیٹ پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ حد سے زیادہ نگرانی بچوں اور والدین کے درمیان اعتماد کو کم کر سکتی ہے۔ تاہم، بچوں کی حفاظت کے لیے کام کرنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے دور میں یہ ٹولز ناگزیر ہیں جہاں سوشل میڈیا الگورتھمز کا واحد مقصد بچوں کو ہر قیمت پر اسکرین سے جوڑے رکھنا ہے۔
ایپل نے ’آسک ٹو بائے‘ فیچر کو بھی بہتر بنایا ہے۔ اب خریداری یا سبسکرپشن کی درخواستوں کے ساتھ اس مواد کی تفصیلات بھی والدین کو دکھائی جائیں گی، اور منظوری سے قبل انہیں ڈویلپر کی پرائیویسی پالیسی کا خلاصہ بھی پڑھنا ہوگا۔
ایپل کا یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ وہ بچوں کی ڈیجیٹل تربیت کو اب قسمت پر نہیں چھوڑنا چاہتے۔ جیسے جیسے یہ ٹولز عام ہو رہے ہیں، والدین پر ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ صرف سیٹنگز نہ کریں، بلکہ بچوں کے ساتھ اس بات پر مسلسل بات چیت بھی جاری رکھیں کہ اسکرین پر کیا دیکھنا مناسب ہے اور کیا نہیں۔
