ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے مالی بحران کا شکار فیڈرل اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (فیووسٹ) کے لیے مالی سال 2026-27 کی مد میں 507.6 ملین روپے کی ہنگامی گرانٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رقم یونیورسٹی کے لیے ایک ایسی وقت میں آئی ہے جب اساتذہ اور ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور پنشن کے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔
یونیورسٹی کے ملازمین گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں کے منتظر ہیں، جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔ احتجاج اور ہڑتالوں کے باعث کیمپس کا ماحول کشیدہ رہا اور انتظامیہ پر دباؤ بڑھتا گیا۔ یہ گرانٹ اب تنخواہوں اور پنشن کی مد میں واجب الادا رقوم کی ادائیگی کے لیے استعمال کی جائے گی۔
ایچ ای سی نے اس بار فنڈز کی فراہمی کے ساتھ سخت نگرانی کے نظام کو بھی مشروط کیا ہے۔ کمیشن کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ رقم کا درست استعمال ہو اور اسے انتظامی بے قاعدگیوں کی نذر ہونے سے بچایا جا سکے۔
یونیورسٹی کے ایک سینئر استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ رقم ایک وقتی مرہم تو ہے، مگر مستقل حل نہیں۔ "ہمیں مستقل مالی آڈٹ اور انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صرف فنڈز مل جانے سے تعلیمی معیار بہتر نہیں ہوگا جب تک کہ مالی نظم و ضبط قائم نہ ہو۔”
یونیورسٹی کا مالی بحران برسوں سے جاری انتظامی کمزوریوں، کم ہوتی ہوئی داخلوں کی شرح اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا نتیجہ ہے۔ ماضی میں بجٹ کو متوازن کرنے کی کئی کوششیں ناکام رہیں، جس کے باعث ادارہ اب ہر بار ایچ ای سی کے بیل آؤٹ پیکجز کا محتاج بن چکا ہے۔
ایچ ای سی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی معاونت یونیورسٹی کی جانب سے جامع اصلاحاتی منصوبے پر عمل درآمد سے مشروط ہوگی۔ اس میں غیر ضروری بھرتیاں روکنا اور تمام شعبہ جات کے بجٹ کا سخت جائزہ لینا شامل ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم یونیورسٹی کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کر سکے گی یا یہ صرف ایک عارضی سہارا ثابت ہوگی؟ فی الحال، انتظامیہ کی ترجیح صرف تنخواہوں کی ادائیگی ہے، جبکہ تحقیقی کام اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسے اہم امور بدستور تعطل کا شکار ہیں۔
