انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) وائٹ بال کرکٹ کے فارمیٹس میں بڑی تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے، جس کا مقصد ہر ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج میچ کو یقینی بنانا ہے۔
مجوزہ تبدیلیوں کے تحت آئی سی سی دونوں روایتی حریفوں کو ابتدائی راؤنڈ میں ایک ہی گروپ میں رکھنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے تجارتی مفادات کارفرما ہیں؛ پاک بھارت میچ کرکٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ آمدنی اور ریکارڈ توڑ ویورشپ کا باعث بنتے ہیں، جو کسی بھی وینیو پر اسٹیڈیم کو کھچا کھچ بھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماضی میں ٹورنامنٹ کے ڈھانچے ایسے رہے کہ اکثر دونوں ٹیمیں الگ الگ گروپس میں ہوتی تھیں، جس سے یہ خطرہ رہتا تھا کہ اگر ایک ٹیم ٹورنامنٹ سے جلدی باہر ہو جائے تو شائقین اس بڑے مقابلے سے محروم رہ جائیں گے۔ اب نئے فارمیٹ کے ذریعے براڈکاسٹرز اور اسٹیک ہولڈرز ہر ٹورنامنٹ میں کم از کم ایک "بڑے ٹاکرے” کی ضمانت چاہتے ہیں۔
یہ تجویز کرکٹ بورڈز کے درمیان بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ آئی سی سی کی فنانس کمیٹی اسے عالمی کرکٹ کی آمدنی بڑھانے کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے، تاہم کچھ رکن ممالک ڈراز کی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مخصوص میچوں کو یقینی بنانے کے لیے گروپس میں ردوبدل کھیل کی روح کے منافی ہے، جس سے ایک اسپورٹس ایونٹ محض ایک اسکرپٹڈ ٹیلی ویژن پروڈکٹ بن کر رہ جائے گا۔
پاکستان اور بھارت کے لیے یہ تبدیلی لاجسٹکس اور دباؤ کے لحاظ سے ایک بڑا چیلنج ہوگی۔ دونوں ٹیمیں ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی جانیں گی کہ ان کا سب سے کٹھن امتحان پہلے ہفتے میں ہی ہے۔ کھلاڑیوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹورنامنٹ کا سب سے زیادہ دباؤ والا میچ انہیں تب کھیلنا ہوگا جب وہ ابھی پچ اور کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو رہے ہوں گے۔
آئی سی سی کی جانب سے ان تبدیلیوں کو دبئی میں ہونے والے آئندہ بورڈ اجلاس میں حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔ اگر یہ منظوری مل جاتی ہے تو نیا فارمیٹ اگلے وائٹ بال ورلڈ کپ سائیکل میں متعارف کرایا جائے گا، جس سے پاک بھارت روایتی حریف کا ٹاکرا عالمی کرکٹ کیلنڈر کا مستقل حصہ بن جائے گا۔
یہ تبدیلی کرکٹ کے کھیل کو فائدہ پہنچائے گی یا محض تجارتی منافع کو، یہ سوال ابھی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تنازع کا باعث ہے۔ فی الحال آئی سی سی کا داؤ اسی بات پر ہے کہ دونوں حریفوں کا ٹکراؤ ایک ایسا موقع ہے جسے وہ کسی صورت ضائع نہیں کرنا چاہتے۔
