مظفرآباد — پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج مظفرآباد کرکٹ اسٹیڈیم میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مرکز میں کشمیری عوام کے حقوق کے محافظ اور ترجمان بنیں گے۔
بلاول بھٹو نے اپنی تقریر کا محور مقامی قیادت اور وفاقی حکومت کے درمیان رابطے کو بنایا۔ انہوں نے انتخابی عمل کو محض ایک صوبائی مقابلہ قرار دینے کے بجائے اسے کشمیری عوام کے مستقبل کے فیصلے سے تعبیر کیا۔
"آپ صرف مقامی حکومت نہیں چن رہے،” بلاول نے مجمع سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔ "آپ اس شخص کا انتخاب کر رہے ہیں جو وفاقی کابینہ میں بیٹھ کر آپ کے حقوق کی جنگ لڑے گا، جب بجٹ بنے گا، پانی کی تقسیم کا معاملہ ہوگا، یا جب آپ کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جائے گی۔”
یہ انتخابی مہم ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب آزاد کشمیر میں بجلی کے نرخوں اور گندم پر سبسڈی کے خاتمے جیسے مسائل نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر رکھا ہے۔ بلاول بھٹو نے ان عوامی شکایات کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا اور وعدہ کیا کہ اگر پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو وہ وفاقی حکومت کو مجبور کرے گی کہ وہ آزاد کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھے، نہ کہ اسے نظر انداز کرے۔
پیپلز پارٹی اس وقت مقامی اسٹیک ہولڈرز اور وفاقی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بلاول کا یہ بیانیہ کہ وہ اسلام آباد اور مظفرآباد کے درمیان براہِ راست پل کا کردار ادا کریں گے، دراصل اس دیرینہ شکایت کو مخاطب کر رہا ہے کہ کشمیری قیادت کو اکثر وفاقی بیوروکریسی کے سامنے بے بس کر دیا جاتا ہے۔
اگرچہ بلاول بھٹو نے کسی تفصیلی معاشی روڈ میپ کا اعلان نہیں کیا، تاہم انہوں نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا اعادہ کیا۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ پیپلز پارٹی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ ان ووٹرز کو کس حد تک متحرک کر پاتی ہے جو روایتی سیاسی جماعتوں کے باہمی رسہ کشی سے بیزار ہو چکے ہیں۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا یہ الیکشن بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کے لیے سندھ سے باہر اپنی سیاسی ساکھ کو مستحکم کرنے کا ایک بڑا امتحان ہے۔
جلسے کے اختتام پر بلاول نے ووٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "میں آپ کے پاس مہمان بن کر نہیں، آپ کے ساتھی کے طور پر آیا ہوں۔ اگر آپ ہمیں مینڈیٹ دیں گے، تو میں وفاقی حکومت کو کشمیر سے کیے گئے ہر وعدے کا جوابدہ ٹھہراؤں گا۔”
مخالف جماعتوں کی جانب سے تاحال اس جلسے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم انتخابی مہم کے آغاز سے یہ واضح ہے کہ آنے والے ہفتوں میں وفاقی اور مقامی تعلقات کا معاملہ ہی سیاست کا مرکزی نقطہ رہے گا۔
