کراچی — ملک بھر کی مقامی مارکیٹوں میں تانبے (کاپر) کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار ہے، اور 18 جولائی 2026 تک پاکستان کے بڑے صنعتی شہروں (کراچی، لاہور، اسلام آباد اور گوجرانوالہ) میں اعلیٰ ترین کوالٹی کا ملبیری اسکریپ تانبا 5,500 روپے فی کلو گرام کی مضبوط سطح پر مستحکم ہے۔ دوسری جانب، الیکٹریکل وائرنگ اور پاور پروجیکٹس میں استعمال ہونے والا خالص اور نیا تانبا 5,800 روپے سے لے کر 6,200 روپے سے زائد فی کلو گرام کے پریمیم ریٹ پر فروخت ہو رہا ہے، جس کے سب سے زیادہ ریٹس کراچی اور لاہور کی مارکیٹوں میں دیکھے گئے ہیں۔ اس کے برعکس، مکسڈ یا اوسط درجے کے کاپر اسکریپ کی قیمتیں مقامی حالات اور کوالٹی کے لحاظ سے 2,100 روپے سے 3,500 روپے فی کلو گرام کے درمیان چل رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق مقامی قیمتوں میں اس اضافے کی بڑی وجہ امپورٹ ڈیوٹیز، مہنگی ٹرانسپورٹیشن، ٹیکسز اور ہاؤسنگ و وائرنگ انڈسٹری کی جانب سے بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔
عالمی منڈیوں میں بھی گرین انرجی (قابلِ تجدید توانائی) کے منصوبوں اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بحالی کے باعث تانبے کی طلب عروج پر ہے، جہاں بین الاقوامی مارکیٹ کا بینچ مارک 6.22 سے 6.29 ڈالر فی پاؤنڈ کے درمیان دیکھا گیا ہے، جو لندن میٹل ایکسچینج (LME) پر تقریباً 13,500 سے 13,700 ڈالر فی ٹن بنتا ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی موجودہ شرحِ مبادلہ (تقریباً 280 روپے) کے حساب سے یہ عالمی ریٹ ٹیکسز، فریٹ اور مقامی منافع کے بغیر 3,800 سے 3,950 روپے فی کلو گرام بنتا ہے۔ مارکیٹ پنڈتوں کا اندازہ ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر تانبے کی قیمتیں 6.30 سے 6.40 ڈالر فی پاؤنڈ تک جا سکتی ہیں، جبکہ ماحول دوست توانائی کے شعبے میں مسلسل مانگ کے باعث اگلے ایک سال کے دوران تانبے کی قیمت 7 ڈالر فی پاؤنڈ سے بھی تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
