سال کی سب سے متوقع فلکیاتی بارش ‘پرسئیڈز’ اس ہفتے اپنے عروج پر ہے۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق، آسمان پر فی گھنٹہ 100 تک شہابِ ثاقب دیکھے جا سکیں گے، جو اسے سال کا سب سے قابلِ اعتماد اور روشن نظارہ بناتا ہے۔ یہ شہابی بارش دراصل ” نامی دمدار ستارے کے پیچھے چھوڑے گئے ملبے کا نتیجہ ہے۔
زمین ہر سال اگست میں اس گرد و غبار اور چٹانی ٹکڑوں کے راستے سے گزرتی ہے۔ جب یہ ذرات تقریباً 37 میل فی سیکنڈ کی رفتار سے کرۂ ہوائی سے ٹکراتے ہیں تو شدید حرارت کے باعث جل اٹھتے ہیں، جس سے آسمان پر روشنی کی لکیریں بنتی ہیں۔
اس بار مشاہدے کے لیے حالات سازگار ہیں۔ 11 اور 12 اگست کی شب چاند کا حجم کم ہونے کے باعث آسمان پر اندھیرا رہے گا، جس سے ہلکی روشنی والے شہابِ ثاقب بھی واضح دکھائی دیں گے۔ بہترین نظارے کے لیے آدھی رات کے بعد کا وقت موزوں ہے، جب ‘پرسیس’ برج فلکی شمال مشرقی آسمان پر بلندی پر ہوتا ہے۔
ناسا کے ماہرِ شہابیات بل کُک کا کہنا ہے کہ "اس نظارے کے لیے دوربین یا ٹیلی اسکوپ کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ آلات آپ کے دیکھنے کے دائرہ کار کو محدود کر دیں گے۔ آپ کو کھلی آنکھ سے پورا آسمان دیکھنا چاہیے۔”
پرسئیڈز اپنی ‘فائر بالز’ کے لیے مشہور ہیں۔ یہ معمول کے شہابِ ثاقب سے بڑے اور زیادہ روشن ٹکڑے ہوتے ہیں، جو آسمان پر ایک دم سے تیز روشنی بکھیرتے ہیں اور کبھی کبھی اپنے پیچھے چند سیکنڈ کے لیےگیس کا ایک چمکتا ہوا نشان بھی چھوڑ جاتے ہیں۔
بہترین تجربے کے لیے شہری روشنیوں سے دور کسی ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں حدِ نگاہ وسیع ہو۔ اپنی آنکھوں کو اندھیرے کا عادی بنانے کے لیے کم از کم 20 سے 30 منٹ کا وقت درکار ہوتا ہے۔ ایک بار جب آنکھیں تاریکی میں عادی ہو جائیں تو شمال مشرق کی جانب رخ کریں، تاہم صرف ایک نقطے پر نظریں مرکوز نہ رکھیں کیونکہ یہ شہابیے آسمان کے کسی بھی حصے میں نمودار ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ اس کا عروج منگل کی رات سے بدھ کی صبح تک ہے، لیکن اس کے بعد بھی چند دنوں تک سرگرمی برقرار رہے گی۔ اگر بادلوں کی وجہ سے کسی رات نظارہ ممکن نہ ہو، تب بھی اگلے چند روز تک زمین اسی ملبے کے راستے سے گزرتی رہے گی، جس سے ٹوٹتے ستاروں کو دیکھنے کے مواقع باقی رہیں گے۔
اگر موسم صاف رہا تو یہ بغیر کسی خلل کے ایک شاندار فلکیاتی نمائش ہوگی۔ بس اپنے ساتھ ایک آرام دہ کرسی، گرم چادر اور تھوڑا سا صبر رکھیں۔
