مٹیاری کے قریب آج صبح ایک مال گاڑی کی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، جس کے نتیجے میں ملک کی اہم ترین ریلوے لائن پر ٹریفک مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ حادثے کے بعد کراچی جانے والی متعدد مسافر ٹرینیں مختلف اسٹیشنوں پر پھنس گئیں، جس سے مسافر شدید گرمی میں دربدر ہیں۔
ریلوے حکام کے مطابق حادثہ صبح چار بجے کے قریب پیش آیا جب مال گاڑی کی متعدد بوگیاں پٹری سے اتر کر الٹ گئیں، جس سے ٹریک کا ایک بڑا حصہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں اور بھاری مشینری جائے وقوعہ پر پہنچا دی گئی، تاہم بوگیوں کو ہٹانے کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
مسافروں کی مشکلات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چھوٹے اسٹیشنوں پر پھنسے افراد کو ریلوے انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی واضح ٹائم فریم نہیں دیا گیا۔ ایک مسافر نے بے بسی سے کہا، "ہمیں صرف اتنا بتایا گیا کہ آگے مسئلہ ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جا رہا کہ ٹرین کب چلے گی۔ انتظامیہ کی خاموشی انتظار سے زیادہ اذیت ناک ہے۔”
ریلوے کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں ایک ٹریک کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ مسافر ٹرینوں کو محدود پیمانے پر گزارا جا سکے، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ ٹریفک کی مکمل بحالی میں رات تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
یہ حادثہ قومی ریلوے نیٹ ورک کی خستہ حال انفراسٹرکچر اور دیکھ بھال میں غفلت پر ایک اور سوالیہ نشان ہے۔ وزارت ریلوے نے واقعے کی انکوائری کا اعلان تو کر دیا ہے، مگر مسافروں کے لیے یہ اعلان کوئی معنی نہیں رکھتا۔
فی الحال مین لائن بلاک ہے اور ٹریک سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ جب تک ٹریک کلیئر نہیں ہوتا، ہزاروں مسافروں کے لیے انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
