غزہ کے مختلف علاقوں میں رہنے والے شہریوں نے حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ کے انتخاب پر ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نئی قیادت جنگ بندی مذاکرات کو آگے بڑھانے اور انسانی بحران میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ قیادت کی تبدیلی سے زیادہ اہم جنگ کا خاتمہ، امن کی بحالی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ہے۔
خلیل الحیہ، جو حماس کے سینئر رہنما ہیں، تنظیم کے اندرونی انتخاب کے بعد نئے سربراہ منتخب ہوئے۔ مبصرین کے مطابق ان کا انتخاب حماس کی موجودہ پالیسیوں کے تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم اس سے مستقبل میں مذاکرات کے لیے ایک واضح قیادت سامنے آ سکتی ہے۔
جاری جنگ اور انسانی بحران کے باعث غزہ کے بیشتر شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح فوری جنگ بندی، خوراک اور ادویات کی فراہمی، بے گھر افراد کی بحالی اور معمول کی زندگی کی واپسی ہے، چاہے تنظیم کی قیادت کوئی بھی کرے۔
