امریکہ نے مسلسل دسویں رات ایران پر فضائی حملے کیے، جن میں جنوبی ایران کے کئی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بندر عباس، جزیرہ قشم، چابہار، کنارک اور سیریک شامل ہیں۔
جواب میں ایران نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوج سے منسلک اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ کویت کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا ایران کو "بھاری قیمت” چکانا پڑے گی، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران ایک "مکمل جنگ” کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔
اس تنازع نے آبنائے ہرمز کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
