کراچی: حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2025-26 (FY26) کے دوران اپنے مالیاتی اخراجات پورے کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے 5.9 کھرب روپے قرض حاصل کیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے اوسطاً ہر ماہ تقریباً 500 ارب روپے جبکہ روزانہ 16.4 ارب روپے بینکوں سے قرض لیا، جو ملکی مالیاتی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال FY26 میں حکومتی قرضوں کا حجم گزشتہ مالی سال کے 5.4 کھرب روپے کے مقابلے میں مزید بڑھ گیا۔ حکومت کی جانب سے مسلسل اندرونی قرضوں پر انحصار کے باعث ملکی اندرونی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں قرضوں کی ادائیگی پر اخراجات مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بینکوں سے بڑے پیمانے پر قرض لینے کے باعث نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ بینک زیادہ منافع اور کم خطرے کے باعث حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس صورتحال سے کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومت نے مالی سال 2026-27 میں قرضوں پر سود اور اصل رقم کی ادائیگی کے لیے تقریباً 8 کھرب روپے مختص کیے ہیں، جو وفاقی بجٹ کا تقریباً نصف بنتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عوامی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کے لیے صرف 1 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس پر ماہرین نے ترقیاتی اخراجات محدود ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
