نیویارک: دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 66 ہزار ڈالر کی سطح سے تجاوز کر گئی۔ سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد اور مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث بٹ کوائن میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق بٹ کوائن کی حالیہ بڑھوتری کی بڑی وجوہات میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی، بڑی مالیاتی کمپنیوں کی جانب سے ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری اور کرپٹو مارکیٹ کے حوالے سے بہتر توقعات شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 66 ہزار ڈالر کی سطح عبور کرنا بٹ کوائن کے لیے ایک اہم تکنیکی مرحلہ ہے، جو مستقبل میں قیمتوں کے رجحان پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اگر خریداری کا یہ رجحان برقرار رہا تو مزید اضافے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ اب بھی بہت زیادہ اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، اور عالمی معاشی صورتحال، سرمایہ کاروں کے فیصلوں اور حکومتی پالیسیوں کی تبدیلی سے قیمتوں میں اچانک کمی یا اضافہ ہو سکتا ہے۔
بٹ کوائن کی حالیہ تیزی نے ایک بار پھر عالمی مالیاتی مارکیٹ میں ڈیجیٹل کرنسیوں کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے، جہاں دنیا بھر کے سرمایہ کار کرپٹو اثاثوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
