غزہ سٹی، 22 جولائی 2026: حماس کے نومنتخب سیاسی رہنما خلیل الحیہ نے تنظیم کی قیادت سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے عوامی خطاب میں غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان تقریباً تین سال سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
خلیل الحیہ نے کہا کہ اگر کسی معاہدے میں فوجی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات شامل ہوں تو حماس ایک مستقل جنگ بندی کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاہدے کا مقصد صرف عارضی وقفہ نہیں بلکہ فلسطینی عوام کے لیے طویل المدتی امن، تحفظ اور باوقار زندگی کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔
انہوں نے قطر، مصر، ترکی اور امریکہ سمیت بین الاقوامی ثالثوں پر زور دیا کہ وہ جامع امن معاہدے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کریں۔ ان کے مطابق مستقل جنگ بندی سے غزہ میں جاری انسانی بحران میں نمایاں کمی آسکتی ہے، جہاں لاکھوں افراد خوراک، صاف پانی، ادویات اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
خلیل الحیہ حال ہی میں حماس کے سابق سربراہ یحییٰ السنوار کی ہلاکت کے بعد تنظیم کے نئے سیاسی سربراہ منتخب ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی تقرری حماس کی مجموعی حکمت عملی میں تسلسل کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم ان کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس اپنی شرائط کے مطابق مستقل جنگ بندی پر مذاکرات کے لیے عوامی طور پر آمادہ ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے خلیل الحیہ کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں ہونے والے مذاکرات متعدد اہم معاملات، جن میں یرغمالیوں کی رہائی، غزہ کے مستقبل کا انتظام، اسرائیلی فوج کے انخلا اور حماس کے ہتھیاروں کا مسئلہ شامل ہے، پر اختلافات کے باعث بارہا تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔
یہ تازہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اقوامِ متحدہ، امدادی تنظیمیں اور متعدد ممالک مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تمام فریق ایک ایسا پائیدار معاہدہ کریں جو تشدد کا خاتمہ کرے، شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے اور غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد اور تعمیرِ نو کا راستہ ہموار کرے۔
