نیویارک کو سمندری طوفانوں اور سیلابی خطرات سے بچانے کے لیے انفراسٹرکچر کی تعمیر نو پر 500 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ ریاستی اداروں اور شہری منصوبہ سازوں کی تازہ ترین رپورٹ نے شہر کے مستقبل کے لیے ایک بھاری مالی بوجھ کی نشاندہی کر دی ہے۔ یہ رقم صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ نیویارک اب پرانے ساحلی تحفظاتی نظام کے سہارے مزید نہیں چل سکتا۔
کئی دہائیوں تک نیویارک میں شدید سیلاب کو ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا رہا، یکن اب یہ معمول بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اگر یہ نصف ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری نہ کی گئی تو شہر کو پہنچنے والا نقصان اس کی بحالی کی صلاحیت سے باہر ہو جائے گا۔
شہر کا بوسیدہ انفراسٹرکچر سب سے بڑا چیلنج ہے۔ خاص طور پر سب وے کا نظام، جو ہوریکین آئیڈا کے بعد سے مسلسل دباؤ میں ہے۔ انجینئرز کا کہنا ہے کہ ٹنلز کو سیلاب سے محفوظ بنانے اور ایم ٹی اے نیٹ ورک میں جدید پمپنگ سسٹم نصب کرنے پر ہی بجٹ کا ایک بڑا حصہ خرچ ہوگا۔
تحقیق میں شامل ایک ماہر نے کہا، "ہم بنیادی طور پر 19ویں صدی کے شہر کو 22ویں صدی کی موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ لاگت ضرور زیادہ ہے، لیکن اس کا متبادل شہر کے نشیبی علاقوں کو آہستہ آہستہ ترک کرنا ہے۔”
سب سے بڑا سوال اس خطیر رقم کی فراہمی کا ہے۔ ریاستی اور شہری حکومت پہلے ہی مالی بحران کا شکار ہے، جس کے باعث حکام وفاقی گرانٹس، نجی و سرکاری شراکت داری اور ساحلی علاقوں میں جائیداد پر نئے ‘کلائمیٹ ٹیکس’ لگانے پر غور کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بوجھ بالآخر عام شہریوں پر پڑے گا، جس سے نیویارک میں رہائش مزید مہنگی ہو جائے گی۔
رپورٹ میں ‘غیر مرئی’ اخراجات کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کاروبار کی بندش، انشورنس مارکیٹ میں عدم استحکام اور کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کے باعث شہر کو اس سے کہیں زیادہ مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
فی الحال، 500 ارب ڈالر کا تخمینہ ایک بنیادی سطح ہے۔ جیسے جیسے موسم کی پیشگوئیاں مزید درست ہوں گی اور سطح سمندر میں اضافے کے اعداد و شمار سامنے آئیں گے، یہ لاگت بڑھ سکتی ہے۔ نیویارک کا مستقبل اب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا حکام ہنگامی اقدامات سے نکل کر ایک طویل المدتی تعمیراتی منصوبے پر عمل درآمد کر پاتے ہیں یا نہیں۔
