شمالی بھارت میں مون سون کی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ سمیت مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کم از کم 40 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں ہزاروں افراد تاحال پھنسے ہوئے ہیں جبکہ امدادی ٹیمیں راستوں کی بندش کے باعث متاثرہ مقامات تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
بارشوں کا یہ سلسلہ جمعرات کی رات شروع ہوا۔ پہاڑی ڈھلوانوں سے مٹی کے تودے گرنے سے درجنوں رابطہ سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جس سے کئی دیہات کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ ہماچل پردیش کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، صرف اس ریاست میں ہلاکتوں کی تعداد 22 تک پہنچ چکی ہے۔ کئی گھر سوتے ہوئے مکینوں سمیت سیلابی ریلوں اور ملبے کی نذر ہو گئے۔
مقامی رہائشیوں کے لیے یہ تباہی ایک نیا تجربہ نہیں، مگر موسمیاتی تبدیلیوں نے صورتحال کو پہلے سے کہیں زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔ منڈی کے قریب واقع ایک گاؤں کے رہائشی روی کمار نے بتایا کہ "ہم نے محض تیس منٹ میں سب کچھ کھو دیا۔ پانی پہاڑ سے کسی ٹرین کی رفتار سے نیچے اترا اور راستے میں آنے والی ہر چیز بہا لے گیا۔”
اب ریاستی حکام پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ ابتدائی وارننگ کا نظام نچلی سطح تک کیوں نہ پہنچ سکا۔ محکمہ موسمیات نے خطے کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا تھا، لیکن بجلی کے کھمبے گرنے اور مواصلاتی رابطے ٹوٹنے کی وجہ سے کئی بستیاں اندھیرے میں ڈوب گئیں اور ان تک بروقت اطلاع نہیں پہنچ سکی۔
میدانی علاقوں میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ دریا کناروں سے باہر نکل آئے ہیں، جس سے تیار فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ کے کچھ حصوں میں ڈیموں پر دباؤ کم کرنے کے لیے اسپل ویز کھول دیے گئے ہیں، جس سے نشیبی علاقوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو رہی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس نے ریسکیو آپریشن تیز کرنے کے لیے 15 اضافی ٹیمیں تعینات کی ہیں۔ ڈرونز اور بھاری مشینری کی مدد سے سڑکوں سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے، مگر پہاڑی راستوں پر موجود بڑی چٹانیں امدادی کارروائیوں کی رفتار سست کر رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ہمالیہ کے دامن میں آئندہ 48 گھنٹوں تک مزید شدید بارشیں متوقع ہیں۔ زمین پہلے ہی پانی سے سیر ہو چکی ہے، جس کے باعث مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ ان حالات میں ریسکیو آپریشن کی کامیابی اور ہزاروں افراد کی زندگیوں کا انحصار موسم کے اگلے رخ پر ہے۔
