بحیرہ روم کے خطے میں ایک بار پھر آگ کا راج ہے۔ یونان کے خشک جنگلات سے لے کر اسپین کے ساحلی علاقوں تک، آگ کے شعلے ان زمینوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں جہاں اس موسم گرما میں بارش نہ ہونے کے برابر رہی اور درجہ حرارت نے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ فائر فائٹرز ان شعلوں پر قابو پانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، لیکن اب تک ہزاروں سیاحوں اور مقامی رہائشیوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
آگ کی اس شدت کی وجہ صرف گرمی نہیں، بلکہ ایندھن بننے والی خشک جھاڑیاں ہیں۔ برسوں کی مسلسل خشک سالی نے مغربی یورپ کے وسیع جنگلات کو بارود کے ڈھیر میں بدل دیا ہے۔ جب کہیں سے بھی ایک چنگاری اٹھتی ہے—چاہے وہ سگریٹ کا ٹکڑا ہو، بجلی کی تار یا آسمانی بجلی—تو وہ بجلی کی رفتار سے پھیلتی ہے۔
یونان میں ایتھنز کے قریب صورتحال سنگین ترین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حکام نے پانی گرانے والے طیارے اور سینکڑوں اہلکار میدان میں اتار دیے ہیں، لیکن بدلتی ہوئی ہواؤں کے رخ نے چھوٹے سے علاقے میں لگی آگ کو بڑے شعلوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ جائے وقوعہ پر موجود ایک مقامی فائر چیف نے صحافیوں کو بتایا کہ، "ہم موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔” انہوں نے آگ پر قابو پانے کے لیے کسی حتمی وقت کا ذکر نہیں کیا، صرف اتنا کہا کہ ان کی ٹیمیں تھک چکی ہیں اور نمی کا تناسب صفر کے قریب ہے۔
اسپین اور پرتگال میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ جزیرہ نما آئبیریا میں سب سے بڑی تشویش آگ کا پھیلاؤ ہے۔ ہنگامی خدمات کے ادارے شدید دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے کہ پہلے کن دیہاتوں کو بچایا جائے۔ یورپی یونین کا سول پروٹیکشن میکانزم فعال کر دیا گیا ہے، جس کے تحت پڑوسی ممالک اپنے خصوصی طیارے مقامی کوششوں کی مدد کے لیے بھیج رہے ہیں۔ یہ ایک ہنگامی صورتحال ہے جس کا معاشی اور ماحولیاتی نقصان ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ کوئی وقتی واقعہ نہیں ہے۔ یورپ میں آگ لگنے کا موسم اب جلدی شروع ہو رہا ہے اور دیر تک جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے مقامی حکومتوں کو تیاری یا بحالی کا موقع ہی نہیں ملتا۔ آگ بجھانے کے روایتی طریقے، جو کبھی کافی سمجھے جاتے تھے، اب ان مسلسل گرمی کی لہروں کے سامنے ناکام ہو رہے ہیں۔
ان علاقوں کے رہائشیوں کے لیے فوری خطرہ دھواں اور قریب آتی آگ کی لکیر ہے۔ باقی براعظم کے لیے پیغام واضح ہے: آگ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی پرانی حکمت عملی موجودہ حقائق کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ آج جب سورج ان سلگتی پہاڑیوں کے پیچھے غروب ہو رہا ہے، تو امدادی ٹیمیں پیچھے ہٹ رہی ہیں، صرف کل صبح ہوا کا رخ بدلنے کا انتظار کرنے کے لیے۔
