لندن کا بلیو چپ انڈیکس منگل کے روز معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوا، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں وقتی ٹھہراؤ اور کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ حوصلہ افزا مالیاتی نتائج ہیں۔
ایف ٹی ایس ای انڈیکس میں صبح کے ابتدائی کاروبار کے دوران 0.4 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جس سے گزشتہ ہفتے ہونے والی مندی کا کچھ اثر زائل ہوا۔ سرمایہ کاروں کا یہ رجحان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان محتاط انداز میں کشیدگی کم ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ اس پیش رفت نے خطے میں کسی بڑی جنگ کے خدشات کو فی الحال کم کر دیا ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور محفوظ اثاثوں کی طرف سرمایہ کاروں کا بھاگ دوڑ کا رجحان بھی تھم گیا ہے۔
مارکیٹ میں خطرات مول لینے کا رجحان تو لوٹا ہے، مگر یہ بحالی کافی نازک ہے۔ سرمایہ کار اس وقت برطانوی کمپنیوں کے مالیاتی نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ ادارے بلند افراطِ زر اور مہنگے قرضوں کے بوجھ کو برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں یا نہیں۔
معدنیات نکالنے والی کمپنیوں کے حصص میں تیزی رہی، جہاں اینگلو امریکن اور ریو ٹنٹرو نے اشیاء کی قیمتوں میں استحکام کے بعد منافع کمایا۔ دوسری جانب بینکنگ سیکٹر میں بھی معمولی بہتری دیکھی گئی؛ ٹریڈرز کا ماننا ہے کہ بینک آف انگلینڈ اپنی اگلی میٹنگ میں شرح سود کو فی الحال برقرار رکھے گا، جس سے قرض دہندگان کے لیے کاروباری ماحول میں کچھ پیش گوئی ممکن ہو سکے گی۔
تاہم، معاشی منظرنامہ اب بھی دھندلا ہے۔ اگرچہ جغرافیائی سیاسی درجہ حرارت وقتی طور پر گرا ہے، لیکن توانائی کی منڈیوں میں بنیادی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ خلیج فارس سے آنے والی کوئی بھی نئی خبر منگل کے اس معمولی اضافے کو پل بھر میں ختم کر سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ فنڈ مینیجرز اب بھی احتیاطی تدابیر اختیار کیے ہوئے ہیں۔
لندن میں مقیم ایک ایکویٹی اسٹریٹجسٹ کا کہنا ہے کہ "مارکیٹ صرف خبروں کے زیرِ اثر چل رہی ہے۔ یہ کوئی طویل مدتی تیزی نہیں، بلکہ صرف اس امید پر ایک وقتی ریلیف ہے کہ حالات مزید خراب نہیں ہوں گے۔”
فی الحال ایف ٹی ایس ای اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس تیزی کا تسلسل اس ہفتے آنے والے افراطِ زر کے اعداد و شمار اور کمپنیوں کی جانب سے پیش کردہ نتائج پر منحصر ہے، جو یہ واضح کریں گے کہ یہ بہتری حقیقی ترقی کا نتیجہ ہے یا صرف اخراجات میں کمی کا عارضی اثر۔
