اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف شہروں میں منگل کے روز شروع ہونے والی بارشوں نے گرمی اور حبس کے ستائے شہریوں کو بڑی راحت پہنچائی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب سے آنے والی نمی کی وجہ سے مون سون کا یہ نیا سلسلہ رواں ہفتے کے دوران فعال رہے گا۔
وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں دوپہر کے وقت شروع ہونے والی موسلا دھار بارش سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری شدید حبس اور 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے والا پارہ چند گھنٹوں میں ہی گر کر خوشگوار سطح پر آ گیا۔ لاہور اور گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا۔
تاہم، بارش کا یہ پہلا مرحلہ شہری انتظامیہ کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔ راولپنڈی میں نشیبی علاقے، خاص طور پر نالہ لئی کے اطراف کی بستیوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔ ماضی میں معمولی بارشیں بھی ان گنجان آباد علاقوں میں نکاسی آب کے ناقص نظام کے باعث مشکلات پیدا کرتی رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ایک فارکاسٹر نے بتایا کہ، "ہم پنجاب کے بالائی علاقوں میں سسٹم کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران پوٹھوہار اور وسطی پنجاب میں بارش کی شدت میں اضافے کا امکان ہے۔”
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور نالوں کی صفائی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اگرچہ یہ بارشیں زرعی شعبے، خاص طور پر دھان کی فصل کے لیے انتہائی ضروری ہیں، لیکن شہروں میں انفراسٹرکچر کی کمزوری کسی بھی وقت سیلابی صورتحال کو جنم دے سکتی ہے۔
کاشتکار اس تبدیلی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ طویل خشک سالی کے بعد کھیتوں کو ملنے والی یہ نمی فصلوں کی نشوونما کے لیے ناگزیر تھی۔
موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم ہفتے کے آخر تک مشرقی جانب بڑھ جائے گا، تاہم فضا میں موجود غیر یقینی صورتحال کے باعث اتوار تک وقفے وقفے سے بارش کا امکان رہے گا۔ فی الحال حبس کی کیفیت برقرار ہے اور مطلع ابر آلود رہنے کے باعث آئندہ چند روز تک شدید گرمی کی لہر لوٹنے کا امکان نہیں ہے۔
