لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رہنما کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔ یہ واقعہ گزشتہ رات پیش آیا، جس نے شہر کی سیاسی فضا میں مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔
مقتول، جو پارٹی کے مقامی تنظیمی ڈھانچے کا حصہ تھے، اپنی گاڑی میں جا رہے تھے کہ حملہ آوروں نے انہیں گھیر لیا۔ اندھا دھند فائرنگ کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ریسکیو حکام نے لاش کو جناح ہسپتال منتقل کیا، جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول اور دیگر شواہد اکٹھے کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
پنجاب میں سیاسی کشیدگی کے دوران یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ پارٹی قیادت نے اسے "سوچی سمجھی سازش” قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت پر سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔
ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کے ایک ترجمان نے کہا کہ "یہ محض ایک مجرمانہ واقعہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے۔” انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کو جس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس سے منظم مہم کی بو آتی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، جائے وقوعہ کے قریب لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور پہلے سے مقتول کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے اور ان کے گھر کے قریب گھات لگا کر بیٹھے تھے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے تصدیق کی ہے کہ نامعلوم ملزمان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم مختلف پہلوؤں پر تفتیش کر رہے ہیں،” تاہم انہوں نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا یہ واقعہ سیاسی دشمنی کا نتیجہ ہے یا ذاتی عناد کا۔
واقعے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد ہسپتال کے باہر جمع ہو گئی، جہاں انہوں نے صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
ابھی تک کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے۔ پارٹی نے علاقے میں آج احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس واقعے نے جہاں مقامی سطح پر کارکنوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، وہیں اپوزیشن رہنماؤں کی سکیورٹی پر بھی سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں۔
