لندن — مشرق وسطیٰ میں فضائی حملوں کے دوبارہ آغاز اور امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی امیدیں دم توڑنے کے بعد بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ خام تیل کے سودے 5.70 ڈالر (6.8 فیصد) اضافے کے ساتھ 89.79 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 4.94 ڈالر (6.2 فیصد) اضافے کے ساتھ 84.20 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ قیمتوں میں اس ناگہانی تیزی کی بنیادی وجہ عراق میں ایران حمایت یافتہ گروپوں کے خلاف امریکہ اور سعودی عرب کے تازہ ترین فضائی حملے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید جوابی کارروائی کے انتباہات ہیں۔
توانائی کی سپلائی سے متعلق خداسے اس وقت مزید گہرے ہو گئے جب تہران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام سے متعلق عمان کی تجویز کو مسترد کر دیا، جس سے خلیجی تجارت اور تیل کی ترسیل کے بحران کے حل کی امیدیں ختم ہو گئی ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق امریکی خام تیل کے ذخائر میں 33 لاکھ بیرل کی کمی اور اوپیک پلس کی جانب سے اکتوبر سے پیداوار میں اضافے کو تین ماہ کے لیے معطل کیے جانے کے امکانات نے بھی مارکیٹ میں قیمتوں کو سہارا دیا ہے، اور آنے والے دنوں میں برینٹ آئل کی قیمتیں 80 سے 100 ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
