پاکستان میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اگلے پندرہ روز کے لیے کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔ وزارت خزانہ نے بدھ کی رات دیر گئے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں موجودہ نرخوں کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا، جس سے مہنگائی کے مارے عوام کو وقتی سکون ملا ہے۔
حکومتی فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں افراطِ زر کی شرح اب بھی دوہرے ہندسوں میں ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اس بار حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود بوجھ عوام پر منتقل نہ کرنے کا انتخاب کیا ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتیں 14 اگست تک نافذ رہیں گی۔ ملک کی لاجسٹک اور زرعی شعبے کے لیے ڈیزل کی قیمت کا برقرار رہنا خاص اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس سے کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں اضافے کا خدشہ نہیں رہا۔
اس فیصلے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں میں حالیہ کمی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی نسبتاً مستحکم پوزیشن ہے۔ ان عوامل نے حکومت کو اس قابل بنایا کہ وہ عالمی منڈی کے دباؤ کو جذب کر سکے اور پمپ پر قیمتوں کو مستحکم رکھے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر افسر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم نے قیمتوں کو مستحکم رکھنے کا ہدف حاصل کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ معاشی پہیہ چلتا رہے اور عام آدمی پر مہنگائی کا مزید بوجھ نہ پڑے۔”
تاہم، آزاد معاشی ماہرین کا نقطہ نظر مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت بین الاقوامی قرض دہندگان کے سخت ریونیو اہداف کو پورا کرنے کے لیے ایندھن پر بھاری ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ اگرچہ آج پمپ پر قیمت نہیں بڑھی، لیکن ٹیکس کا موجودہ ڈھانچہ اتنا زیادہ ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں مزید گرنے کے باوجود صارفین کو بڑا ریلیف ملنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
فی الحال، شہریوں کے لیے سفری اخراجات وہی رہیں گے جو کل تھے۔ اگست کے وسط کے بعد صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی، اس کا انحصار مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عالمی سپلائی چین پر ہے۔ عام پاکستانی کے لیے یہ وقتی ریلیف تو خوش آئند ہے، لیکن معاشی غیر یقینی کی فضا اب بھی برقرار ہے۔
