لانگ لیٹ سفاری پارک میں دو امُور ٹائیگر کے بچوں کی پیدائش ہوئی ہے، جو معدومیت کے خطرے سے دوچار اس نسل کے تحفظ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ تقریباً 100 دن کے حمل کے بعد، پارک کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ دونوں بچے صحت مند ہیں اور اپنی کچھار میں متحرک ہیں۔
یہ پیدائش ولٹ شائر میں واقع اس پارک کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ امُور ٹائیگرز — جنہیں سائیبیرین ٹائیگر بھی کہا جاتا ہے — کو آئی یو سی این نے معدومیت کے خطرے سے دوچار جانوروں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ جنگلوں میں ان کی تعداد 500 سے بھی کم رہ گئی ہے، جس کے باعث ہر نئی پیدائش عالمی تحفظِ حیاتِ وحش کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
پارک کے ایک سینئر کیپر نے بتایا، "ہم نے مادہ ٹائیگر ‘یانا’ کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی ہوئی تھی۔ بچوں کو حرکت کرتے اور دودھ پیتے دیکھنا ایک بڑی راحت ہے، تاہم ابتدائی چند ہفتے انتہائی حساس ہوتے ہیں۔”
انتظامیہ نے فی الحال ان بچوں کو عوام کی نظروں سے دور رکھا ہے۔ پارک کا ماحول پرسکون رکھا گیا ہے تاکہ یانا کسی دباؤ کے بغیر اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر سکے۔ عملہ دور سے کیمروں کے ذریعے بچوں کی نشوونما کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ ماں اور بچوں کا فطری تعلق متاثر نہ ہو۔
ماہرینِ حیاتیات اس پیدائش کو ایک ‘انشورنس پالیسی’ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگرچہ اصل ہدف روس کے مشرق بعید میں ان کی قدرتی رہائش گاہوں کا تحفظ ہے، لیکن قید میں افزائشِ نسل کا یہ عمل ایک جینیاتی حفاظتی جال کا کام کرتا ہے۔ لانگ لیٹ پارک ‘یورپین اینڈینجرڈ اسپیشیز پروگرام’ کا حصہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ بچے مستقبل میں براعظم بھر میں افزائشِ نسل کی حکمت عملی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سیاحوں کو ان بچوں کو دیکھنے کے لیے ابھی انتظار کرنا پڑے گا۔ پارک انتظامیہ نے عوامی نمائش کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی ہے، کیونکہ اس کا انحصار مکمل طور پر یانا کے رویے پر ہے۔ فی الحال تمام تر توجہ ان بچوں کی بقا پر مرکوز ہے، اور پارک کا عملہ ان کی ضروریات کے مطابق اپنے معمولات میں تبدیلی لا رہا ہے۔
بچوں کی جنس اور ناموں کا تعین ابھی باقی ہے، تاہم اس وقت ان کا صحت مند ہونا لانگ لیٹ کے تحفظِ حیاتِ وحش کے پروگرام کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
