سمندری ماہرین مختلف ساحلی علاقوں میں جیلی فش کی غیر معمولی بڑھتی ہوئی تعداد پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جیلی فش کی تعداد میں اضافہ سمندری ماحول، ماہی گیری، سیاحت اور عوامی تحفظ کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ جیلی فش بلوم اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سمندری ماحول ان کی تیز رفتار افزائش کے لیے سازگار ہو جائے۔ سمندر کے بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت، سمندری دھاروں میں تبدیلی، غذائی اجزا کی زیادتی اور جیلی فش کے قدرتی شکاریوں کی کم ہوتی تعداد ان عوامل میں شامل ہیں جو ان کی آبادی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
سائنسدان سیٹلائٹ تصاویر، زیرِ آب سروے، ڈرونز اور سمندری نگرانی کے جدید آلات کی مدد سے جیلی فش کے جھنڈوں کی نقل و حرکت، حجم اور پھیلاؤ کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس معلومات کی بنیاد پر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ جھنڈ کس سمت بڑھ سکتے ہیں اور ساحلی آبادیوں پر ان کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سمندری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر جیلی فش کی موجودگی ماہی گیری کی صنعت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ یہ مچھلی پکڑنے والے جالوں کو بھر سکتی ہیں، آلات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور مچھلیوں کی مقدار میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں۔ بعض اوقات جیلی فش ساحلی بجلی گھروں اور صنعتی تنصیبات کے کولنگ سسٹمز کو بھی متاثر کر دیتی ہیں، جس سے عارضی طور پر کام بند کرنا پڑ سکتا ہے۔
عوام کے لیے بھی احتیاط ضروری ہے کیونکہ جیلی فش کے ڈنک تکلیف دہ ہو سکتے ہیں اور بعض افراد میں شدید الرجی کا باعث بن سکتے ہیں۔ حکام نے ساحل پر آنے والوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقامی حفاظتی انتباہات پر عمل کریں، زندہ یا مردہ جیلی فش کو ہاتھ نہ لگائیں، اور شدید ردِعمل کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں۔
سائنسدانوں کے مطابق جیلی فش سمندری غذائی سلسلے کا ایک اہم حصہ ہیں کیونکہ وہ خود بھی شکار کرتی ہیں اور دیگر سمندری جانوروں کی خوراک بھی بنتی ہیں۔ تاہم ان کی غیر معمولی تعداد بعض اوقات موسمیاتی تبدیلی، حد سے زیادہ ماہی گیری اور ساحلی آلودگی جیسے بڑے ماحولیاتی مسائل کی نشاندہی بھی کر سکتی ہے۔
محققین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا موجودہ اضافہ صرف ایک موسمی رجحان ہے یا طویل مدتی ماحولیاتی تبدیلی کا اشارہ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل نگرانی اور تحقیق سے نہ صرف ساحلی علاقوں کو مستقبل میں بہتر طور پر محفوظ بنایا جا سکے گا بلکہ سمندری ماحولیاتی نظام کو سمجھنے میں بھی اہم پیش رفت ہوگی۔
