سائنسدانوں کی ایک نئی فوسل تحقیق نے ارجنٹینوسورس کے بارے میں اہم نئی معلومات فراہم کی ہیں، جو زمین پر رہنے والے سب سے بڑے ڈائنوسارز اور سب سے عظیم خشکی کے جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔ تازہ تحقیق سے ماہرینِ قدیم حیاتیات کو اس کی جسمانی ساخت، نشوونما، حرکت اور کریٹیشیئس دور کے آخری زمانے، تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ سے 9 کروڑ 70 لاکھ سال پہلے، کے ماحول کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملی ہے۔
محققین نے ارجنٹینوسورس کی ریڑھ کی ہڈی، ٹانگوں کی ہڈیوں اور جدید تھری ڈی ڈیجیٹل ماڈلز کا بایو مکینیکل تجزیہ کیا تاکہ اس کی جسامت، وزن اور چلنے کے انداز کا اندازہ لگایا جا سکے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ دیوقامت جانور اپنی بے پناہ جسامت کے باوجود قدیم میدانوں اور دریائی علاقوں میں مؤثر انداز میں حرکت کر سکتا تھا۔
سائنسدانوں کے مطابق ایک بالغ ارجنٹینوسورس کی لمبائی تقریباً 30 سے 35 میٹر (98 سے 115 فٹ) اور وزن 60 سے 80 ٹن تک ہو سکتا تھا، جس کی وجہ سے یہ زمین پر چلنے والے سب سے بھاری جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی غیر معمولی لمبی گردن اسے بلند درختوں اور اونچی نباتات تک آسانی سے پہنچنے میں مدد دیتی تھی، جبکہ اس کی لمبی دم جسم کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ ارجنٹینوسورس کی مضبوط، ستون نما ٹانگیں اس کے بھاری جسم کا وزن سنبھالنے کے لیے خاص طور پر موزوں تھیں۔ اس کی ہڈیوں میں جدید پرندوں کی طرح ہوا سے بھرے خانے موجود تھے، جس سے ڈھانچہ نسبتاً ہلکا مگر انتہائی مضبوط رہتا تھا۔
سائنسدانوں نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ اتنا بڑا جانور اپنی توانائی کی ضروریات کیسے پوری کرتا تھا۔ ان کے مطابق ارجنٹینوسورس دن کا بڑا حصہ درختوں کی پتیاں، مخروطی درخت، فرن اور دیگر قدیم نباتات کھانے میں گزارتا تھا تاکہ اپنے دیوقامت جسم کے لیے درکار خوراک حاصل کر سکے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ مکمل بالغ ارجنٹینوسورس پر اس کی بے پناہ جسامت کی وجہ سے بہت کم شکاری حملہ کرنے کی ہمت کرتے تھے، تاہم کم عمر ارجنٹینوسورس نسبتاً زیادہ خطرے میں ہوتے تھے۔ بعض سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر گروہوں کی صورت میں رہتے تھے، جس سے بچوں کو اضافی تحفظ ملتا تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ ہر نئی فوسل دریافت سوروپوڈ ڈائنوسارز کے ارتقا، قدیم ماحولیاتی نظام اور خشکی پر جانوروں کی زیادہ سے زیادہ جسامت کی حدود کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ مستقبل میں مزید فوسلز اور جدید سائنسی ٹیکنالوجی ارجنٹینوسورس کی زندگی اور ارتقا کے بارے میں مزید اہم راز سامنے لانے کی توقع ہے۔
