ماہرینِ فلکیات نے ایک نئے ستارے کی پیدائش کا نایاب منظر ریکارڈ کیا ہے، جس سے کائنات کے اہم ترین قدرتی عمل میں سے ایک کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے۔ تازہ مشاہدات سے سائنسدان جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گیس اور گرد و غبار کے عظیم بادلوں سے نئے ستارے کیسے بنتے اور لاکھوں سال میں کس طرح ارتقا پاتے ہیں۔
جدید خلائی اور زمینی دوربینوں کی مدد سے محققین نے ایک گھنے سالماتی بادل کا مشاہدہ کیا، جہاں کششِ ثقل گیس اور گرد و غبار کو اندر کی جانب سکیڑ رہی تھی۔ تحقیق کے دوران ایک نوزائیدہ پروٹو اسٹار دیکھا گیا، جس کے گرد مادے کی ایک گھومتی ہوئی قرص موجود تھی، جو مسلسل اس ستارے کو مزید مادہ فراہم کر رہی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق ستارے ستاروں کی نرسریوں کہلانے والے عظیم گیس اور گرد و غبار کے بادلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ بادل اپنی ہی کششِ ثقل کے باعث سکڑتے ہیں، جس سے درجۂ حرارت اور دباؤ بڑھتا ہے۔ آخرکار ستارے کے مرکز میں نیوکلیئر فیوژن شروع ہو جاتی ہے، جو ایک نئے ستارے کی حقیقی پیدائش کی علامت ہوتی ہے۔
مشاہدات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ نوزائیدہ ستارے سے تیز رفتار گیس کے طاقتور دھارے خارج ہو رہے تھے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ دھارے اضافی مادہ اور توانائی کو خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے ستارہ مزید مستحکم انداز میں بڑھتا ہے اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ نئے ستاروں کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ سیاروں کے نظام، بشمول ہمارا شمسی نظام، کس طرح وجود میں آتے ہیں۔ نوجوان ستاروں کے گرد موجود مادے کی یہی قرص مستقبل میں سیاروں، چاندوں اور دیگر فلکی اجسام کی تشکیل کا ذریعہ بنتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق ستاروں کے ارتقا اور کائنات میں ستاروں کی پیدائش کے پیچیدہ طبیعیاتی عمل کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل کی جدید خلائی دوربینیں نئے ستاروں کی ابتدائی زندگی کے مزید حیرت انگیز راز دریافت کریں گی، جس سے کائنات کی تشکیل کے بارے میں انسانی علم میں مزید اضافہ ہوگا۔
