وانا — جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر وانا کے بازار میں واقع ایک سپر مارکیٹ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک معروف مذہبی عالم جاں بحق ہو گئے۔
دھماکہ اس وقت ہوا جب بازار میں خریداروں کا رش عروج پر تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق زوردار دھماکے سے پوری مارکیٹ گونج اٹھی، جس کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا اور خریدار جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے رہے۔ سیکیورٹی فورسز نے چند منٹوں میں علاقے کو گھیرے میں لے لیا، لیکن حملہ آور ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
مقامی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ مذہبی عالم موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ ان کی شناخت کے حوالے سے سرکاری سطح پر فوری طور پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ علاقے میں ایک معروف شخصیت تھے اور اکثر مقامی مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے۔ تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، لیکن گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں علماء اور قبائلی عمائدین کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے کے ایک دکاندار نے بتایا کہ "صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ لوگ اپنی دکانیں کھولنے سے بھی ڈر رہے ہیں۔ اب کسی کو نہیں معلوم کہ کون محفوظ ہے۔”
یہ واقعہ جنوبی وزیرستان کی سیکیورٹی صورتحال میں ایک تشویشناک پیش رفت ہے۔ اگرچہ فوجی آپریشنز کے بعد اس ضلع میں امن و امان کی صورتحال کافی بہتر ہوئی تھی، لیکن حالیہ عرصے میں عسکریت پسندانہ سرگرمیوں میں اضافے نے قبائلی رہنماؤں کو دوبارہ غیر محفوظ کر دیا ہے۔
وانا کے رہائشیوں کے لیے سوال صرف یہ نہیں کہ دھماکہ کس نے کیا، بلکہ یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے بازار جیسے حساس اور گنجان آباد علاقے میں اس حملے کو روکنے میں کیوں ناکام رہے۔
پولیس نے آس پاس کی عمارتوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ آیا یہ تحقیقات کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچیں گی یا یہ کیس بھی خطے میں جاری تشدد کی دیگر وارداتوں کی طرح ایک معمہ بن کر رہ جائے گا، اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا، تاہم فی الحال مقامی آبادی شدید خوف اور غم کی کیفیت میں ہے۔
