پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں آٹھویں جماعت کے امتحان میں ناکام ہونے والے طلبہ کے لیے تعلیمی دروازے کھل گئے۔ محکمہ تعلیم نے ایک اہم نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت اب آٹھویں میں فیل ہونے والے طلبہ کو مشروط طور پر نویں جماعت میں داخلہ دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ تعلیمی اداروں سے ڈراپ آؤٹ کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
اس پالیسی تبدیلی کا مطالبہ برسوں سے والدین اور ماہرینِ تعلیم کی جانب سے کیا جا رہا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ پرانا "فیل اور ریپیٹ” کا نظام بچوں کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے اور انہیں تعلیم چھوڑنے پر مجبور کر رہا ہے۔ نئے ہدایت نامے کے مطابق، جو طلبہ آٹھویں جماعت کے امتحانات میں مطلوبہ نمبر حاصل نہیں کر سکے، وہ اب نویں جماعت کی کلاسوں میں بیٹھ سکیں گے۔
تاہم یہ رعایت غیر مشروط نہیں ہے۔ اسکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان طلبہ کے لیے نویں جماعت کے نصاب کے ساتھ ساتھ تعلیمی کمی پورا کرنے کے لیے خصوصی ری میڈیل کلاسز کا اہتمام کریں۔ مقصد یہ ہے کہ وہ بنیادی تصورات جو گزشتہ سال رہ گئے تھے، انہیں کلاس کے دوران ہی کلیئر کیا جا سکے۔
ہزاروں خاندانوں کے لیے یہ فیصلہ کسی ریلیف سے کم نہیں۔ کم آمدنی والے گھرانوں کے بچے اکثر آٹھویں میں فیل ہونے کے بعد تعلیم کو خیرباد کہہ دیتے تھے، کیونکہ ایک سال ضائع ہونے کا مطلب گھر کی معاشی صورتحال پر مزید بوجھ بننا ہوتا تھا۔ حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ بچوں کو اسکول کے ماحول میں برقرار رکھا جائے تاکہ وہ غیر رسمی لیبر مارکیٹ میں دھکیلے جانے سے بچ سکیں۔
دوسری جانب، اساتذہ کی تنظیموں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نویں جماعت کا نصاب پہلے ہی کافی بھاری ہوتا ہے اور بغیر کسی اضافی وسائل یا ڈھانچہ جاتی مدد کے، ان طلبہ کو سنبھالنا اساتذہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
لاہور کے ایک سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ، "ہم دراصل اساتذہ سے ایک سال میں دو سال کا کام لینے کی توقع کر رہے ہیں۔ اگر ان بچوں کی بنیادیں کمزور ہیں تو نویں جماعت کے بورڈ امتحانات میں ان کی کارکردگی مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔”
صوبائی حکومت نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ ان خصوصی کلاسوں کے لیے اضافی فنڈز فراہم کیے جائیں گے یا نہیں۔ فی الحال تمام تر توجہ داخلوں پر مرکوز ہے۔ نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے ساتھ ہی اب انفرادی اسکول انتظامیہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان طلبہ کو باقی کلاس کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کرتی ہے۔
کیا یہ پالیسی تعلیمی نتائج میں بہتری لائے گی یا صرف ناکامی کو اگلے سال پر ٹال دے گی؟ اس کا حتمی فیصلہ ان طلبہ کی اگلی بورڈ امتحانات میں کارکردگی سے ہی ہو سکے گا۔
