گوما، جمہوریہ کانگو — جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس نے ایک اور سنگین حد عبور کر لی ہے۔ طبی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1700 سے بڑھ گئی ہے۔ شمالی کیوو اور اتوری کے شورش زدہ علاقوں میں وائرس کی تیزی سے پھیلتی ہوئی رفتار کے پیشِ نظر عالمی ادارہ صحت ہنگامی بنیادوں پر ویکسین کے تجربات کو تیز کرنے میں مصروف ہے۔
اعداد و شمار تشویشناک ہیں۔ اگست 2018 میں وبا کے باضابطہ اعلان کے بعد سے اب تک تقریباً 2500 کیسز ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ یہ تاریخ کی دوسری مہلک ترین ایبولا وبا بن چکی ہے، جس سے آگے صرف 2014-2016 کا مغربی افریقی بحران ہے، جس میں 11 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے تھے۔
میدانِ عمل میں موجود طبی کارکنوں کو دوہرے چیلنج کا سامنا ہے۔ ایک طرف انتہائی متعدی وائرس کا پھیلاؤ ہے تو دوسری طرف جنگ زدہ علاقوں کی تلخ حقیقت۔ مسلح گروہ اکثر طبی مراکز کو نشانہ بناتے ہیں، جس کے باعث امدادی تنظیموں کو کام روکنا پڑتا ہے اور متاثرہ آبادی اسکریننگ یا علاج سے محروم رہ جاتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ایک کوآرڈینیٹر نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "ہم ایک طوفان کے اندر لگی آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ مقامی آبادی میں پایا جانے والا عدم اعتماد سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بیرونی امدادی ٹیموں اور حکومتی پروگراموں سے بدظن بہت سے مقامی لوگ اپنے بیمار رشتہ داروں کو طبی مراکز لانے کے بجائے گھروں میں چھپا رہے ہیں۔
دباؤ بڑھنے کے بعد عالمی ادارہ صحت نے تجرباتی ویکسین کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ اگرچہ بنیادی ویکسین ‘rVSV-ZEBOV’ مؤثر ثابت ہوئی ہے، تاہم طبی ماہرین اب جانسن اینڈ جانسن کی دو خوراکوں والی ویکسین کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔ اس کا مقصد حفاظتی دائرہ کار کو وسیع کرنا اور ہائی رسک علاقوں میں رہنے والوں کو زیادہ پائیدار تحفظ فراہم کرنا ہے۔
تاہم، صرف ویکسین اس بحران کا حل نہیں ہے۔ وبا کا مرکز ایسے علاقے ہیں جہاں سرحدیں غیر محفوظ ہیں اور نقل مکانی کا عمل جاری ہے، جس کی وجہ سے متاثرین کے رابطوں کا سراغ لگانا ایک تھکا دینے والا اور اکثر ناممکن کام بن جاتا ہے۔ بدامنی اور غلط معلومات کے نذر ہونے والا ہر دن وائرس کو مزید پھیلنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
عالمی برادری نے لاکھوں ڈالرز کی امداد کا وعدہ کیا ہے، لیکن فنڈز کی کمی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ جب تک سکیورٹی کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی اور مقامی لوگوں کا اعتماد حاصل نہیں کیا جاتا، تب تک طبی مداخلت صرف وبا کو روکنے کی حد تک محدود رہے گی، اسے ختم نہیں کر سکے گی۔
فی الحال تمام تر توجہ گوما اور بینی کے طبی مراکز پر مرکوز ہے۔ وائرس کے تھمنے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے، اور اب خطے کی بقا کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا طبی ٹیمیں یوگنڈا اور روانڈا کی سرحدوں کے قریب گنجان آباد شہری مراکز تک پہنچنے سے پہلے اس وبا کو قابو کر پائیں گی یا نہیں۔
