گواتیمالا سٹی سے محض 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع آتش فشاں ’فیوگو‘ جمعرات کو پھٹ پڑا، جس کے نتیجے میں راکھ اور آتشیں مواد کے بادل ہزاروں میٹر بلندی تک فضا میں پھیل گئے۔ حکام نے پہاڑ کے جنوبی دامن میں واقع آبادیوں کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا ہے، جہاں بھاری راکھ کی تہیں مقامی دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہیں۔
آفات سے نمٹنے والے قومی ادارے نے پہاڑی ڈھلوانوں سے نیچے کی جانب ’پائروکلاسٹک فلو‘—یعنی گرم گیس اور پتھروں کے تیز بہاؤ—کے گرنے کی تصدیق کی ہے۔ ایسکوینتلا اور ساکاتیپیکیز کے علاقوں میں صبح سویرے ہنگامی سائرن بجا دیے گئے، جس کے بعد خاندان اپنے گھروں اور مال مویشیوں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نکلنے پر مجبور ہیں۔
یہ دھماکہ وسطی امریکہ کے سب سے متحرک آتش فشاں پہاڑوں میں سے ایک میں ہونے والی ایک خطرناک تبدیلی ہے۔ اگرچہ فیوگو میں معمول کے مطابق درمیانے درجے کی سرگرمی رہتی ہے، لیکن آج کے متواتر دھماکوں نے الرٹ کی سطح کو بلند کر دیا ہے۔ راکھ کا رخ دارالحکومت کی جانب ہے، جس کے بعد ہوا بازی کے حکام نے علاقائی پروازوں کے لیے انتباہ جاری کر دیا ہے۔
متاثرہ علاقے میں موجود ایک امدادی کارکن نے بتایا، "صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ہماری ترجیح ان خاندانوں کو نکالنا ہے جو ملبے کے راستے میں ہیں، لیکن ہوا کا رخ راکھ کو ہمارے ابتدائی تخمینوں سے کہیں زیادہ دور لے جا رہا ہے۔”
3,763 میٹر بلند یہ چوٹی ماضی میں تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ سن 2018 میں ہونے والے ایک بڑے دھماکے نے ’سان میگوئل لاس لوٹیس‘ گاؤں کو مکمل طور پر دفن کر دیا تھا، جس میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہوئے اور سینکڑوں لاپتہ ہو گئے۔ اس سانحے نے حکومتی نگرانی کے نظام کو بدل دیا؛ آج کے انخلا کا عمل شدید جھٹکے محسوس ہونے سے کئی گھنٹے قبل ہی شروع کر دیا گیا تھا۔
فیلڈ ٹیمیں اس وقت سیسمک سینسرز اور تھرمل کیمروں کے ذریعے آتش فشاں کی سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کرے گا یا رات تک تھم جائے گا۔ فی الحال، تمام تر توجہ ‘ریڈ زونز’ کو خالی کروانے پر ہے اس سے پہلے کہ راکھ کے باعث آمدورفت ناممکن ہو جائے۔
جیسے جیسے سورج ڈھل رہا ہے، ہزاروں افراد عارضی پناہ گاہوں میں منتقلی کے منتظر ہیں۔ حکام کو صرف فوری لاوے کا خدشہ نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں بارش کے ساتھ مل کر راکھ کے خطرناک سیلابی ریلوں (لاہارز) کا بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔
