میر رضا علی کی ہلاکت کے معاملے میں منگل کے روز تحقیقات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا، جب پولیس سرجن نے باضابطہ طور پر رپورٹ دی کہ جائے وقوعہ کی تصاویر اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مندرجات میں گہرا تضاد موجود ہے۔
سرجن کی جانب سے انکوائری کمیٹی کو جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، لاش کی طبی جانچ کے دوران جو حقائق سامنے آئے، وہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں درج تفصیلات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان تضادات نے مقتول کے لواحقین کے ان الزامات کو مزید تقویت دی ہے، جو پہلے دن سے ہی یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ حقائق کو چھپانے کے لیے سرکاری رپورٹ میں ردوبدل کیا گیا۔
تحقیقاتی ٹیم کے ایک قریبی ذرائع نے بتایا، "جائے وقوعہ اور سرد خانے میں لی گئی تصاویر، پوسٹ مارٹم رپورٹ سے میل نہیں کھاتیں۔ یہ معمولی غلطیاں نہیں، بلکہ جسمانی زخموں اور طبی تشخیص کے بنیادی پہلوؤں میں کھلا تضاد ہے۔”
معاملہ بنیادی طور پر زخموں کی نوعیت اور ان کے مقام پر مرکوز ہے۔ جہاں ابتدائی رپورٹ میں موت کو ایک مخصوص زاویے سے پیش کیا گیا تھا، وہیں تصاویر میں نظر آنے والے نشانات اس کہانی سے بالکل مختلف ہیں۔ مقتول کے خاندان کے وکیل کے مطابق، یہ شواہد اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاملے کو دبانے کی منظم کوشش کی گئی۔
خاندان کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم مہینوں سے یہی کہہ رہے ہیں۔ یہ رپورٹ سچ بتانے کے لیے نہیں، بلکہ کیس کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے تیار کی گئی تھی۔”
پولیس سرجن کے اس انکشاف کے بعد اب محکمہ صحت اور پولیس پر بھاری دباؤ ہے کہ وہ وضاحت کریں کہ اتنی بڑی غلطی کیسے ہوئی۔ تفتیش کار اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ غفلت کا معاملہ ہے یا پھر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے جان بوجھ کر کیا گیا اقدام۔
انکوائری کمیٹی نے اصل پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکل بورڈ کو ہفتے کے اختتام تک طلب کر لیا ہے۔ کیس میں ہونے والی اس پیش رفت نے فرانزک عمل کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا میڈیکل اسٹاف کے خلاف مجرمانہ کارروائی ہوگی یا معاملہ صرف محکمانہ انضباطی کارروائی تک محدود رہے گا، جس کا انتظار مقتول کے لواحقین اور عوام کو بے چینی سے ہے۔
