وزیرِ اعظم شہباز شریف منگل کو تین روزہ سرکاری دورے پر ریاض پہنچ گئے۔ شاہی ٹرمینل پر ریاض کے ڈپٹی گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز نے ان کا استقبال کیا۔
وزیرِ اعظم اس دورے پر تنہا نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ہیں جس میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیرِ پیٹرولیم مصدق ملک شامل ہیں۔ پاکستان کی معیشت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور حکومتی وفد کی تمام تر توجہ سعودی عرب سے نئے مالیاتی وعدوں اور براہِ راست سرمایہ کاری کے حصول پر مرکوز ہے۔
اس دورے کا مرکزی ایجنڈا "فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو” میں شرکت ہے۔ وزیرِ اعظم اس فورم سے خطاب کریں گے اور کان کنی، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں پاکستان کی صلاحیتوں کو اجاگر کریں گے۔ اسلام آباد کا ہدف محض قرض لینا نہیں، بلکہ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے ذریعے پاکستان میں طویل مدتی سرمایہ کاری کو یقینی بنانا ہے۔
روانگی سے قبل ایک حکومتی عہدیدار نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ "ہم صرف مفاہمت کی یادداشتوں تک محدود نہیں رہنا چاہتے، اب عملی نتائج کی ضرورت ہے۔”
پسِ پردہ مذاکرات میں ریکوڈک منصوبے پر پیش رفت سرفہرست ہے۔ سعودی عرب اس کان کنی کے منصوبے میں حصص خریدنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے، جس سے پاکستان کے خالی ہوتے خزانے میں اربوں ڈالر کی آمد متوقع ہے۔ اگر اس دورے کے دوران یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو یہ شہباز حکومت کے لیے ایک بڑی معاشی کامیابی ثابت ہوگا۔
یہ دورہ سفارتی سطح پر بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے درمیان، ریاض اور اسلام آباد کے تعلقات اب محض روایتی نہیں رہے بلکہ معاشی بقا کے گرد گھوم رہے ہیں۔ سعودی قیادت کے لیے پاکستان ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر ہے، جبکہ پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مالی معاونت کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔
اگلے 48 گھنٹے یہ طے کریں گے کہ یہ دورہ محض رسمی ملاقاتوں تک محدود رہے گا یا پاکستان کو درپیش معاشی بحران کے حل کے لیے کوئی ٹھوس پیش رفت ہوگی۔ جمعرات کو واپسی پر وزیرِ اعظم کو صرف تصاویر نہیں، بلکہ معیشت کے لیے کوئی ٹھوس پیکج لے کر آنا ہوگا، ورنہ عوام کی مایوسی میں مزید اضافہ ہوگا۔
