کراچی: پاکستان کے صفِ اول کے پروفیشنل باکسر اور موجودہ ڈبلیو بی اے گولڈ بینٹم ویٹ چیمپئن محمد وسیم اپنی اگلی پروفیشنل فائٹ کی تیاری کے لیے بیرونِ ملک مختلف مقامات پر تربیت حاصل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کی اگلی فائٹ رواں سال دسمبر میں ہونے کا امکان ہے۔
محمد وسیم یا تو اپنے ڈبلیو بی اے گولڈ ٹائٹل کا دفاع کریں گے یا پھر ٹائٹل یونیفیکیشن فائٹ میں حصہ لینے کا انتخاب کریں گے۔
محمد وسیم نے جمعہ کو دی ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "انگلینڈ، امریکا اور یورپ میری اگلی فائٹ کی تیاری کے لیے ممکنہ ٹریننگ مقامات ہیں، جو غالباً دسمبر میں ہوگی۔”
انہوں نے مزید کہا، "میری ترجیح اپنے ڈبلیو بی اے گولڈ ٹائٹل کا دفاع کرنا ہے، جو میرے لیے بہت اہم ہے۔ اس کے بعد ہم دیگر آپشنز پر غور کریں گے۔”
محمد وسیم نے گزشتہ سال لاہور کے گیریژن اسپورٹس کمپلیکس میں 12 راؤنڈز پر مشتمل فائٹ میں تھائی لینڈ کے جکراوت مجونگین کو شکست دے کر ڈبلیو بی اے گولڈ ورلڈ بینٹم ویٹ ٹائٹل جیتا تھا۔
اس سے چند ماہ قبل انہوں نے کوئٹہ میں وینزویلا کے وِسٹن اورونو کو شکست دے کر اپنا پہلا ڈبلیو بی اے گولڈ ورلڈ ٹائٹل حاصل کیا تھا۔
بہادر پاکستانی باکسر کے پاس 2014 کے انچیون ایشین گیمز میں کانسی اور اسی سال گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ بھی موجود ہے۔
کئی بین الاقوامی تمغے جیتنے کے باوجود محمد وسیم اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکے۔ وہ لندن اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے کے قریب پہنچے تھے، تاہم آستانہ میں ایشیا کوالیفائرز کے کوارٹر فائنل میں معمولی فرق سے شکست کے بعد ان کا اولمپکس میں شرکت کا خواب پورا نہ ہوسکا۔
حال ہی میں محمد وسیم کو امریکا میں فائٹ کی پیشکش بھی ہوئی تھی، تاہم مختصر وقت کے باعث انہوں نے یہ موقع قبول نہیں کیا۔
انہوں نے کہا، "جی ہاں، امریکا میں فائٹ کی پیشکش ہوئی تھی، لیکن وقت بہت کم تھا اور مطلوبہ تربیت کرنا ممکن نہیں تھا۔”
محمد وسیم کی امریکا کے معروف باکسر اور متعدد ڈویژنز کے چیمپئن جیسی روڈریگز کے ساتھ ممکنہ فائٹ کے حوالے سے بھی بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا، "جی ہاں، بات چیت جاری ہے اور اگر یہ فائٹ طے ہوجاتی ہے تو یہ اچھی بات ہوگی۔ وہ ایک سخت حریف ہے، لیکن میں اسے شکست دے سکتا ہوں۔”
محمد وسیم نے مزید کہا، "اگر یہ فائٹ ہوتی ہے تو میں تربیت کے لیے امریکا منتقل ہوجاؤں گا۔ میرے خیال میں تین ماہ کی تربیت کافی ہوگی۔”
محمد وسیم دنیا کے ان منفرد باکسرز میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے صرف چوتھے پروفیشنل مقابلے میں ڈبلیو بی سی فلائی ویٹ سلور چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا اور بعد میں اس کا کامیابی سے دفاع بھی کیا۔ وہ یہ ٹائٹل تیسری مرتبہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
انہوں نے 2015 میں پروفیشنل باکسنگ کا آغاز کیا، جو 2014 کے انچیون ایشین گیمز میں پاکستان کے لیے کانسی کا تمغہ جیتنے کے چند ماہ بعد تھا۔
پروفیشنل کیریئر میں محمد وسیم کو دو عالمی ٹائٹل فائٹس میں شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ انہوں نے 2022 میں ملائیشیا میں جنوبی افریقہ کے موروٹی متھالانے اور دبئی میں انگلینڈ کے سنی ایڈورڈز کے خلاف فائٹس لڑیں۔
دونوں مقابلوں میں محمد وسیم نے کئی مرحلوں میں عمدہ کارکردگی دکھائی، تاہم دونوں مرتبہ فیصلے پاکستانی باکسر کے خلاف گئے۔
