بینک آف پنجاب کے سربراہ نے پاکستان کی معاشی ترقی کو جانچنے کے لیے روایتی جی ڈی پی کے پیمانے سے آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے “ویلفیئر جی ڈی پی” کا تصور پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملکی معاشی ترقی کا اصل مقصد صرف اعداد و شمار میں اضافہ نہیں بلکہ اس کے فوائد عام شہریوں کی زندگی میں واضح بہتری کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔
بینک آف پنجاب کے سربراہ کے مطابق کسی بھی ملک کی ترقی کو صرف مجموعی قومی پیداوار یعنی GDP میں اضافے سے نہیں پرکھا جانا چاہیے۔ اگر معاشی شرح نمو میں اضافہ ہو رہا ہو لیکن عوام کو روزگار کے مواقع، بہتر آمدنی، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات میسر نہ ہوں تو ایسی ترقی کے اثرات محدود رہ جاتے ہیں۔
“ویلفیئر جی ڈی پی” کے تصور کے تحت معاشی کارکردگی کو عوامی فلاح و بہبود کے مختلف اشاریوں کے ساتھ جوڑنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان اشاریوں میں روزگار کے نئے مواقع، غربت میں کمی، عوام کی آمدنی میں بہتری، صحت اور تعلیم کی سہولیات تک رسائی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔
اس تصور کا بنیادی مقصد جامع اور عوام دوست معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے، جس کے فوائد صرف کاروباری اداروں یا زیادہ آمدنی والے طبقے تک محدود نہ رہیں بلکہ متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں تک بھی پہنچیں۔
بینک آف پنجاب کے سربراہ کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ تصور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا جائزہ لیتے وقت صرف معاشی اعداد و شمار پر انحصار کافی نہیں۔ مثال کے طور پر جی ڈی پی میں اضافہ ملکی پیداوار اور معاشی سرگرمی میں اضافے کی عکاسی کر سکتا ہے، لیکن یہ لازمی طور پر یہ نہیں بتاتا کہ بے روزگاری میں کمی آئی یا نہیں، عوام کی آمدنی میں کتنا اضافہ ہوا یا بنیادی سہولیات تک رسائی بہتر ہوئی یا نہیں۔
ویلفیئر جی ڈی پی کے ذریعے حکومتوں کو روزگار کے فروغ، غربت میں کمی، انسانی وسائل کی ترقی، صحت و تعلیم اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں پر زیادہ توجہ دینے کی ترغیب مل سکتی ہے۔ اس سے معاشی ترقی کو عام شہریوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ براہ راست منسلک کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں مہنگائی، روزگار، غربت، آمدنی میں عدم مساوات اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے مسائل اہم معاشی چیلنجز ہیں، معاشی ترقی کو عوامی بہبود کے ساتھ جوڑنے کا تصور خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اس تصور کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ کسی ملک کی معاشی کامیابی کا سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ “معیشت کتنی بڑھی؟” بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ “اس معاشی ترقی سے عوام کی زندگی میں کتنی بہتری آئی؟”
یوں “ویلفیئر جی ڈی پی” کا تصور معاشی ترقی کے مرکز میں انسانی فلاح و بہبود کو رکھنے کی کوشش ہے، جس میں اقتصادی نمو کے ساتھ ساتھ عوام کے معیارِ زندگی، روزگار، آمدنی اور بنیادی سہولیات کو بھی ملکی ترقی کا اہم پیمانہ تصور کیا جاتا ہے۔
