لندن — شمالی سمندر کے سرد پانیوں سے ریسکیو کیے جانے والے نایاب ‘کیمپس رڈلے’ نسل کے کچھوے کا 5 ہزار میل کا طویل سفر شروع ہو چکا ہے۔ ‘ٹیلی’ نامی یہ کچھوا تین سال قبل شمالی ویلز کے ساحل پر نیم مردہ حالت میں ملا تھا، جہاں سے اسے بچا کر ایک مقامی چڑیا گھر منتقل کیا گیا تھا۔
ٹیلی کی بحالی کا سفر انتہائی صبر آزما رہا۔ جب اسے دریافت کیا گیا تو اس کا جسم شدید سردی اور پانی کی کمی کا شکار تھا، اور ماہرین نے اس کے بچنے کی امیدیں بہت کم ظاہر کی تھیں۔ اینگلسی سی زو کی ڈائریکٹر فرینکی ہوبرو کے مطابق، "ٹیلی اس وقت تقریباً کومہ کی حالت میں تھی۔ تین سال تک اس کی دیکھ بھال کرنا اور اسے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوتے دیکھنا ایک جذباتی تجربہ ہے۔”
30 کلوگرام وزنی اس کچھوے کو بحر اوقیانوس کے پار پہنچانا کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ اسے ایک خاص طور پر تیار کردہ کریٹ میں، ماہر ویٹرنری ڈاکٹروں کی نگرانی میں ٹیکساس کے ساحل تک پہنچایا جائے گا۔ اس مشن کے لیے نجی ایوی ایشن کمپنیوں اور عالمی تحفظِ حیاتِ وحش کی تنظیموں نے تعاون کیا ہے۔
کیمپس رڈلے دنیا میں کچھووں کی سب سے نایاب اور خطرے سے دوچار نسلوں میں سے ایک ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیلی بچپن میں خلیجی دھارے میں پھنس کر راستہ بھٹک گئی تھی اور بہتے ہوئے ہزاروں میل دور برطانیہ کے سرد پانیوں تک پہنچ گئی، جہاں درجہ حرارت انتہائی کم ہونے کے باعث اس کا زندہ رہنا ناممکن تھا۔
ٹیلی کی رہائی رواں ہفتے ٹیکساس کے ساحل پر متوقع ہے۔ سمندر میں چھوڑنے سے قبل اس کی پشت پر ایک سیٹلائٹ ٹیگ لگایا جائے گا تاکہ سائنسدان یہ دیکھ سکیں کہ قید کے طویل عرصے کے بعد یہ کچھوا دوبارہ قدرتی ماحول میں خود کو کیسے ڈھالتا ہے۔
اینگلسی زو کے عملے کے لیے یہ الوداعی لمحہ آسان نہیں، کیونکہ انہوں نے تین برس تک اس کی خوراک سے لے کر خول کی صحت تک ہر چیز کی نگرانی کی ہے۔ تاہم، ان کا ماننا ہے کہ جنگلی حیات کا اصل ٹھکانہ چڑیا گھر کے ٹینک نہیں، بلکہ کھلے سمندر ہیں۔
فرینکی ہوبرو کہتی ہیں، "ہم صرف ایک کچھوے کو آزاد نہیں کر رہے، بلکہ قدرت کی طرف سے ہونے والی ایک غلطی کو درست کر رہے ہیں۔ ٹیلی کا اصل گھر خلیج میکسیکو کے گرم پانی ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ وہیں واپس لوٹے۔”
