نادرا نے پاکستان بھر میں سوشل میڈیا صارفین کے لیے لازمی تصدیقی پروٹوکول کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل شناخت کے غلط استعمال اور غلط معلومات کی ترسیل کو روکنا ہے۔ اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ اب صارفین کو اپنے آفیشل ڈیجیٹل آئی ڈی کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے منسلک کرنا ہوگا۔
یہ فیصلہ عوامی عہدیداروں اور اہم شخصیات کے نام پر بنائے گئے جعلی اکاؤنٹس کی شکایات میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔ اتھارٹی کا ہدف ان اکاؤنٹس سے گمنامی کا پردہ اٹھانا ہے جو منظم ہراسانی یا مالی فراڈ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
اتھارٹی کے ایک سینئر افسر نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم گمنام شرپسند عناصر کے لیے راستہ بند کر رہے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ انضمام کا عمل انتہائی آسان بنایا گیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ سہ ماہی کے اختتام تک تصدیق نہ کرانے والے اکاؤنٹس کو مستقل بند کر دیا جائے گا یا نہیں۔
یہ پالیسی ملک کی بڑی ڈیجیٹل آبادی کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ وہ صارفین جو اب تک فرضی ناموں یا ثانوی اکاؤنٹس سے سرگرم تھے، اب انہیں قومی نظام کے ذریعے اپنی شناخت ثابت کرنی ہوگی۔ اگرچہ پرائیویسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جائز تنقید کی آواز دبا سکتا ہے، تاہم حکومت کا موقف ہے کہ ڈیجیٹل اسپیس کو محفوظ بنانے کے لیے یہ قدم ناگزیر ہے۔
تکنیکی ڈھانچہ میٹا اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) سمیت بڑے پلیٹ فارمز اور قومی ڈیٹا بیس کے درمیان اے پی آئی لنک پر منحصر ہے۔ صارف جیسے ہی تصدیق کی درخواست کرے گا، سسٹم فراہم کردہ اسناد کا موازنہ نادرا کے ریکارڈ سے کرے گا۔ ڈیٹا مماثل ہونے پر اکاؤنٹ کو "ٹرسٹڈ آئی ڈی” کا بیج دیا جائے گا۔
اس عمل کا آغاز رواں ہفتے بڑے شہری مراکز سے ہو رہا ہے، جبکہ ملک گیر سطح پر اس کا اطلاق اگلے ماہ سے ہوگا۔ حکام نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ تصدیقی عمل شروع کرنے سے قبل اپنے موبائل نمبر اور رہائشی کوائف کو اپ ڈیٹ کر لیں، کیونکہ پرانے کوائف کی صورت میں درخواست خودکار طور پر مسترد ہو جائے گی۔
فی الحال، توجہ زیادہ ٹریفک والے اکاؤنٹس اور تصدیق شدہ عوامی شخصیات پر ہے۔ یہ اقدام ڈیجیٹل منظرنامے کو کتنا شفاف بنا پائے گا یا اس سے غیر قانونی سرگرمیاں مزید خفیہ ہو جائیں گی، یہ سوال اب ریگولیٹرز کے لیے سب سے اہم ہے۔
