لاہور — پنجاب حکومت کی ‘ڈائل 1000’ ہیلپ لائن، جو بنیادی طور پر ہنگامی صورتحال کے لیے قائم کی گئی تھی، اب صوبے کے پسماندہ طبقات کے لیے ایک نئی امید بن کر ابھری ہے۔ حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ سروس اب ضرورت مند شہریوں کو وہیل چیئرز کی فراہمی اور فوری مالی امداد پہنچانے کا کام بھی کر رہی ہے۔
یہ پیش رفت روایتی اور سست سرکاری طریقہ کار سے ہٹ کر ایک عملی قدم ہے۔ اب شہریوں کو امداد کے حصول کے لیے دفاتر کے طویل چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ ہیلپ لائن پر کال کرنے والوں کی جانچ پڑتال موقع پر ہی کی جاتی ہے اور ڈیٹا براہِ راست متعلقہ سوشل سکیورٹی محکموں کو بھیج دیا جاتا ہے۔
ایک مزدور جو معذوری کے باعث کام سے قاصر ہے یا کوئی خاندان جو شدید مالی بحران میں گھرا ہے، ان کے لیے یہ تبدیلی ایک عملی ریلیف ہے۔ اس عمل نے اس سرخ فیتے (ریڈ ٹیپ) کو کاٹ دیا ہے جس کی وجہ سے مستحق افراد مہینوں امداد کے منتظر رہتے تھے۔
پروگرام کی نگرانی کرنے والے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ "ہم اب صرف شکایات درج نہیں کر رہے۔ اگر کوئی 1000 پر کال کرتا ہے اور ضرورت کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو ہم وسائل ان تک پہنچاتے ہیں۔ یہ کام کاغذی کارروائی نہیں، بلکہ شہریوں کی ضرورت پر فوری رسپانس ہے۔”
یہ توسیع ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صوبے بھر میں معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ حکومت طویل عرصے سے سماجی تحفظ کے پروگراموں کا دعویٰ کرتی رہی ہے، لیکن رسائی کے مسائل کی وجہ سے ان کی افادیت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ایک پہلے سے مقبول ہنگامی نمبر کا استعمال کرکے، انتظامیہ اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو پالیسی اور مستحقین کے درمیان حائل تھا۔
تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ ہیلپ لائن پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ روزانہ ہزاروں ہنگامی کالز کے ساتھ، اب یہ سوال اہم ہے کہ سروس اپنے بنیادی ہنگامی کردار کو متاثر کیے بغیر فلاحی درخواستوں کا بوجھ کیسے سنبھالے گی۔
حکومت فی الحال اس کے نفاذ کو ترجیح دے رہی ہے۔ ٹیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ تصدیقی عمل کو تیز کیا جائے تاکہ معذور اور نادار افراد تک امداد بلا تاخیر پہنچے۔
یہ اقدام صوبائی فلاحی نظام کا مستقل حصہ بنے گا یا نہیں، یہ وقت بتائے گا، مگر گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جن درجنوں خاندانوں کو وہیل چیئرز یا مالی امداد ملی ہے، ان کے لیے یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اب مدد صرف ایک فون کال کی دوری پر ہے۔
