اداکار مائیکل شین اب صرف اسکرین پر کردار نگاری تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے ویلز کی کوئلے کی کانوں کے تاریک اور زہریلے ماضی کی ایسی حقیقتیں بے نقاب کی ہیں جو برسوں سے مقامی آبادی کی صحت کے لیے خاموش خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
شین نے اپنی تحقیقات کے دوران ایک مقامی رہائشی سے ہونے والی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "اس شخص نے مجھے جو بتایا، اسے سن کر میرا خون ٹھنڈا ہو گیا۔” یہ جملہ اس گہری مایوسی اور خوف کی عکاسی کرتا ہے جو کان کنی کے ان علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
تحقیق کا مرکزی نقطہ ‘اسپوائل ٹپس’ ہیں—یعنی کان کنی سے نکلنے والا وہ ملبہ جو پہاڑوں کی شکل میں ویلز کے دیہی علاقوں میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ ڈھیر صرف تاریخ کا حصہ نہیں، بلکہ ایک ایسا ٹائم بم ہیں جو کسی بھی وقت تباہی لا سکتے ہیں۔ 1966 کا ایبرفین حادثہ، جس میں ایک ڈھیر کے گرنے سے ایک اسکول ملبے تلے دب گیا اور 144 افراد لقمہ اجل بن گئے، آج بھی اس خطرے کی سب سے بڑی یادگار ہے۔
شین کا کہنا ہے کہ اب خطرہ صرف حادثات تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک سست زہر کی طرح زمین اور پانی میں سرایت کر چکا ہے۔ مقامی کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ان علاقوں کی مٹی اور پانی کا مکمل سائنسی معائنہ کیا جائے، لیکن سرکاری سطح پر ہونے والی سست روی نے ان خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اداکار کی یہ تحقیقاتی مہم ان لوگوں کی آواز بن کر سامنے آئی ہے جو برسوں سے انتظامیہ کی غفلت کا شکار ہیں۔ شین اس مسئلے کو محض ایک تاریخی بحث نہیں، بلکہ ایک موجودہ طبی بحران کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک، یہ زہریلا ورثہ محض کتابوں کا قصہ نہیں، بلکہ ان خاندانوں کی روزمرہ کی زندگی کا کرب ہے جو آج بھی ان ڈھیروں کے سائے میں سانس لے رہے ہیں۔
ویلز کی خوبصورت وادیوں کے نیچے چھپا یہ کچرا کب تک نظر انداز کیا جاتا رہے گا؟ مائیکل شین کی یہ دستاویزی کوشش حکام کو ایک ایسے سوال کا جواب دینے پر مجبور کر رہی ہے جسے اب مزید دبانا ممکن نہیں رہا۔
