باغ، آزاد کشمیر — ضلع باغ میں دوبارہ پولنگ کے عمل کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ مکمل ہو گیا ہے، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے اپنی برتری برقرار رکھی ہے۔ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے ابتدائی مرحلے میں تشدد اور بے ضابطگیوں کی شکایات کے بعد مخصوص پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا تھا۔
پولنگ کے دوران ضلع بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری پولنگ اسٹیشنوں کے باہر تعینات رہی تاکہ گزشتہ ہنگامہ آرائی جیسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ مقامی حکام کے مطابق ووٹرز کا ٹرن آؤٹ تسلی بخش رہا، تاہم بار بار کے انتخابی عمل اور تاخیر سے مقامی آبادی میں بے چینی پائی گئی۔
باغ میں یہ انتخابی مقابلہ خطے میں سیاسی اثر و رسوخ کے لیے ایک اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔ پی پی پی اور ن لیگ دونوں نے اس نشست کو جیتنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رکھی ہیں، کیونکہ اسمبلی میں عددی برتری حاصل کرنے کے لیے ہر نشست کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
ایک مقامی انتخابی مبصر نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "آج کا عمل پرامن رہا، لیکن بار بار کی تاخیر نے عوام کو تھکا دیا ہے۔ لوگ اب صرف حتمی نتائج کے منتظر ہیں تاکہ ضلع میں جاری سیاسی غیر یقینی کا خاتمہ ہو۔”
الیکشن کمیشن نے ابھی تک حتمی نتائج کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، تاہم دوبارہ پولنگ والے اسٹیشنوں سے ملنے والے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مقابلہ سخت ہے۔ ان مخصوص پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج حتمی سیٹ کے فیصلے میں کلیدی کردار ادا کریں گے، جس سے سیاسی جماعتوں کا ایوان میں پلڑا بھاری یا ہلکا ہو سکتا ہے۔
ن لیگ کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ دیہی علاقوں میں ان کی مضبوط گرفت کے باعث ان کے امیدوار کی برتری برقرار رہے گی۔ دوسری جانب، پی پی پی کی قیادت کا اصرار ہے کہ دوبارہ پولنگ کے دوران ان کی انتخابی مہم اور ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوششیں رنگ لائی ہیں اور انہوں نے فاصلہ کافی حد تک کم کر لیا ہے۔
انتخابی حکام کی جانب سے حتمی اور تصدیق شدہ نتائج کا اعلان بدھ کی صبح تک متوقع ہے۔ تب تک ضلع بھر میں سیاسی سرگرمیاں تھمی ہوئی ہیں اور دونوں جماعتوں کے کارکنان گنتی کے مراکز کے باہر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
