پشاور — خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے صوبائی سطح پر ’پیغامِ امن کمیٹی‘ قائم کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر امن و امان کی بحالی اور مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔
محکمہ داخلہ کے ذرائع کے مطابق، یہ کمیٹی ایک مشاورتی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گی، جس میں مذہبی اسکالرز، قبائلی عمائدین اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہوں گے۔ کمیٹی کا بنیادی ہدف ان علاقوں میں قیامِ امن ہے جہاں حالیہ مہینوں میں سکیورٹی صورتحال تشویشناک رہی ہے۔
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کمیٹی محض ایک رسمی ادارہ نہیں، بلکہ اس کا کام مقامی تنازعات کو مقامی سطح پر ہی حل کرنا ہے۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو گمراہ کن نظریات سے بچانا اور ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا ہے۔
تاہم، سکیورٹی ماہرین اس اقدام کو احتیاط کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ماضی میں بھی امن کمیٹیوں کے تجربات ہوئے، جن میں سے بیشتر نتائج دینے میں ناکام رہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس کمیٹی کو بااختیار نہ بنایا گیا اور اس نے صرف اعلانات تک محدود رہنے کی کوشش کی، تو عوامی اعتماد کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔
ایک سینیئر سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم اس بار مقامی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو شامل کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے علاقوں میں امن کا پیغام پھیلا سکیں۔ یہ ایک سیاسی اور سماجی کوشش ہے، جس کا مقصد بندوق کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ہے۔”
کمیٹی کا پہلا اجلاس اگلے ہفتے پشاور میں متوقع ہے، جس میں صوبے کے ان حساس اضلاع کی نشاندہی کی جائے گی جہاں امن و امان کی صورتحال سب سے زیادہ نازک ہے۔ اس کے بعد کمیٹی اپنے کام کا باقاعدہ آغاز کرے گی۔
صوبائی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ کمیٹی کی کارکردگی کا جائزہ ہر ماہ لیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمیٹی صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہے گی یا واقعی خیبر پختونخوا کے پرتشدد علاقوں میں امن کا کوئی ٹھوس راستہ نکال پائے گی؟ اس کا جواب آنے والے چند ماہ میں کمیٹی کی عملی کارکردگی سے مل جائے گا۔
