ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کی بحالی کے اشاروں نے امریکی خارجہ پالیسی کے ترجیحی اہداف پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب تہران کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے، بیجنگ انڈو پیسفک خطے میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے اس خلا کا فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔
واشنگٹن کی نئی انتظامیہ بظاہر مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری اور سفارتی طاقت مرکوز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ٹرمپ کی عبوری ٹیم میں شامل سخت گیر عناصر کی تقرریوں سے واضح ہے کہ ایران کا معاملہ ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔ تاہم، یہ توجہ امریکی دفاعی وسائل کو ایشیا سے دور لے جا رہی ہے، جہاں چین اپنی بحری حدود کو مسلسل وسیع کر رہا ہے۔
جنوبی بحیرہ چین میں چینی جارحیت اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ سیکنڈ تھامس شول کے قریب چینی بحریہ کی نقل و حرکت اور مصنوعی جزائر پر فوجی تنصیبات کی توسیع اس بات کا ثبوت ہے کہ بیجنگ خطے میں موجودہ طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اگر امریکی بحری بیڑہ خلیج فارس کی طرف مڑتا ہے، تو فلپائن اور جاپان جیسے اتحادی ممالک تنہا رہ جائیں گے۔
سیکیورٹی امور کے ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "ٹرمپ کی پالیسی ایک خطرناک جوئے کی مانند ہے۔ ایران پر توجہ مرکوز کرنے کا مطلب ہے کہ تائیوان سٹریٹ اور بحر الکاہل میں چین کو اپنی مرضی مسلط کرنے کا کھلا موقع فراہم کرنا۔”
گزشتہ دہائی میں امریکی خارجہ پالیسی کا محور "ایشیا کی جانب منتقلی” رہا تھا تاکہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکا جا سکے۔ ٹرمپ کے سابقہ دور میں چین کے ساتھ تجارتی جنگیں اقتصادی نوعیت کی تھیں، لیکن اب ان کا ایران پر توجہ مرکوز کرنا روایتی اور وسائل طلب مداخلت کی طرف واپسی کی علامت ہے۔
بیجنگ اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں بیجنگ نے اپنی بحری صلاحیتوں میں جو اضافہ کیا ہے، وہ امریکی توجہ ہٹنے کا منتظر تھا۔ اب سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ ایران کو کتنا قابو میں رکھ پائیں گے، بلکہ یہ ہے کہ کیا واشنگٹن بیک وقت دو محاذوں پر اپنی برتری برقرار رکھنے کی استطاعت رکھتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی کشیدگی ایشیا میں امریکی اتحادیوں کے لیے سیکیورٹی کا بحران پیدا کر سکتی ہے۔ آنے والے مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے یہ طے کریں گے کہ آیا امریکہ واقعی ایک عالمی طاقت کے طور پر دونوں خطوں میں توازن قائم رکھ پائے گا یا پھر ایشیا میں چین کے لیے راستہ ہموار کر دے گا۔
