ایمنیشیا اسٹیلر نامی ایک نیا میلویئر میک او ایس سسٹمز کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ہیکرز جعلی گٹ ہب صفحات کا سہارا لے کر صارفین کے براؤزر سے حساس معلومات چوری کر رہے ہیں۔ سکیورٹی ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ یہ حملہ آور ڈویلپرز اور عام صارفین کو دھوکہ دینے کے لیے مقبول اوپن سورس پروجیکٹس کی نقل کرتے ہیں۔
حملے کا طریقہ کار سادہ مگر مؤثر ہے۔ ہیکرز گٹ ہب پر ایسے صفحات بناتے ہیں جو بالکل اصلی سافٹ ویئر ٹولز کی طرح دکھائی دیتے ہیں۔ جب صارف وہاں سے کوئی فائل ڈاؤن لوڈ کرتا ہے، تو میلویئر میک او ایس کے حفاظتی فیچر ‘گیٹ کیپر’ کو بائی پاس کر کے سسٹم میں داخل ہو جاتا ہے۔
سائبر سکیورٹی فرم کے ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "خطرہ اس لیے زیادہ ہے کیونکہ یہ ڈویلپمنٹ ورک فلو کی نقل کرتا ہے۔ صارفین گٹ ہب پر بھروسہ کرتے ہیں، اور ہیکرز اسی اعتماد کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔”
سسٹم میں داخل ہونے کے بعد، یہ میلویئر کروم، بریو اور فائر فاکس جیسے براؤزرز سے پاس ورڈز، کوکیز اور سیشن ٹوکنز چرا لیتا ہے۔ ان سیشن کوکیز کے ذریعے ہیکرز صارف کے اکاؤنٹ میں لاگ ان ہو سکتے ہیں، جس سے ملٹی فیکٹر اتھنٹیکیشن کی رکاوٹ بھی ختم ہو جاتی ہے۔
میلویئر سسٹم میں اپنی جگہ بنانے کے لیے ایک لانچ ایجنٹ انسٹال کرتا ہے، جس سے یہ ہر بار کمپیوٹر اسٹارٹ ہونے پر خود بخود فعال ہو جاتا ہے۔ اس طرح صارف کے پاس ورڈز تبدیل کرنے کے باوجود ہیکرز کا کنٹرول برقرار رہتا ہے۔
ایپل کی سکیورٹی ٹیم اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، لیکن گٹ ہب کے ڈی سینٹرلائزڈ نظام کی وجہ سے تمام جعلی صفحات کو فوری طور پر ہٹانا مشکل ہے۔ ہیکرز ایک صفحہ بلاک ہوتے ہی فوری طور پر نیا ڈومین بنا لیتے ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کا مشورہ ہے کہ گٹ ہب سے کوئی بھی فائل ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے ڈویلپر کی ہسٹری اور کمٹ لاگز کو ضرور چیک کریں۔ اگر ڈاؤن لوڈ کے دوران اچانک کوئی ٹرمینل ونڈو کھلے یا بلا وجہ ایڈمن پاس ورڈ مانگا جائے، تو اسے فوراً بند کر دینا ہی واحد بچاؤ ہے۔
یہ صرف پاس ورڈ چوری کا معاملہ نہیں ہے۔ سیشن کوکیز ہاتھ لگنے کا مطلب ہے کہ ہیکر کے لیے صارف کے نجی ڈیٹا تک رسائی کا راستہ ہموار ہو چکا ہے۔
