کرسمس آئی لینڈ کے رہائشیوں نے منگل کی رات آسمان پر ایک غیر معمولی منظر دیکھا، جب اسپیس ایکس کا ایک راکٹ زمین کے کرہ ہوائی میں داخل ہوتے ہوئے شعلوں میں تبدیل ہو گیا۔
مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب آسمان پر ایک روشن نیلی اور نارنجی لکیر نمودار ہوئی، جس نے بحر ہند میں واقع اس جزیرے کے مکینوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ یہ کوئی شہابیہ نہیں تھا، بلکہ اسپیس ایکس کے ’فالکن 9‘ راکٹ کا اوپری حصہ تھا جو اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد واپس زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل رہا تھا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ روشنی کئی سیکنڈ تک آسمان پر موجود رہی۔ ایک مقامی رہائشی نے اس منظر کو "ناقابل یقین” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے کبھی آسمان پر ایسی چیز نہیں دیکھی۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق، یہ واقعہ معمول کی کارروائی کا حصہ ہے۔ اسپیس ایکس کے راکٹس کے اوپری حصے مشن مکمل کرنے کے بعد اکثر زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے واپس فضا میں کھنچے چلے آتے ہیں۔ فضا میں داخل ہوتے وقت رگڑ سے پیدا ہونے والی شدید گرمی دھات کو پگھلا دیتی ہے، جس سے زمین سے دیکھنے والوں کو ایک روشن "آتشیں گولے” جیسا منظر دکھائی دیتا ہے۔
اگرچہ یہ منظر دیکھنے میں خوفناک لگ سکتا ہے، لیکن خلائی ایجنسیاں ان واقعات کی مسلسل نگرانی کرتی ہیں۔ راکٹ کا یہ حصہ زمین سے کافی بلندی پر ہی ریزہ ریزہ ہو کر جل جاتا ہے، اس لیے زمین پر موجود لوگوں یا آبادی کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔
اسپیس ایکس کی جانب سے مسلسل خلائی مشنز کے باعث اس طرح کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کرسمس آئی لینڈ کے مکینوں کے لیے یہ ایک یادگار تجربہ تھا، جس نے انہیں یاد دلایا کہ زمین کے اوپر کا آسمان اب صرف ستاروں کی آماجگاہ نہیں، بلکہ انسانی سرگرمیوں کا ایک مصروف ترین کوریڈور بھی بن چکا ہے۔
