بیجنگ: چین میں روبوٹکس کے بڑھتے ہوئے مقابلوں، جنہیں اکثر ’روبوٹ اولمپکس‘ کہا جاتا ہے، نے ابتدائی تعلیمی سرگرمیوں سے نکل کر ملک کی تیزی سے ترقی کرتی ہیومن نما روبوٹ صنعت کی بڑی نمائش کی شکل اختیار کرلی ہے۔
پانچ روزہ ورلڈ ہیومنوئڈ روبوٹ گیمز کا تازہ اور سب سے بڑا ایڈیشن ہفتے کو بیجنگ میں شروع ہوا، جہاں روبوٹس کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ چین کی اسٹریٹجک اور صنعتی ترجیحات بھی نمایاں ہوئیں۔
چین میں روبوٹکس کے مقابلوں کا آغاز 1999 سے 2014 کے درمیان ہوا، جب زیادہ تر مقابلوں میں جامعات کی ٹیمیں حصہ لیتی تھیں اور انہیں صنعتی تنظیموں اور مقامی حکومتوں کی حمایت حاصل تھی۔ ابتدائی مقابلوں میں چھوٹے پہیوں والے روبوٹس فٹ بال کھیلتے تھے اور انہیں تصادم سے بچنے اور گیند تلاش کرنے کے لیے محدود خودکار نظام فراہم کیے جاتے تھے۔
2015 میں بیجنگ میں پہلی عالمی روبوٹ کانفرنس کے انعقاد کے ساتھ روبوٹکس کو قومی صنعتی ترجیح کی حیثیت حاصل ہوئی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے روبوٹکس کو جدید مینوفیکچرنگ کا ایک اہم شعبہ قرار دیا تھا۔
اس کے بعد روبوٹ مظاہرے مزید جدید ہوتے گئے۔ موبائل روبوٹس کو بیڈمنٹن کھیلتے، گیند نما اشیا کا تعاقب کرتے اور ان پر ردعمل دیتے دیکھا گیا۔
2023 تک عالمی روبوٹ کانفرنس بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے نئی مصنوعات متعارف کرانے اور اپنی ٹیکنالوجی کی تشہیر کا اہم پلیٹ فارم بن چکی تھی۔ اسی دوران چین کی نسبتاً کم لاگت میں روبوٹس اور ان کے اجزا تیار کرنے کی صلاحیت بھی توجہ کا مرکز بنی۔
چینی کمپنی ژیاؤمی کے روبوٹ کتے سائبر ڈاگ نے بھی خاصی توجہ حاصل کی۔ اس کی ابتدائی قیمت تقریباً 1,500 ڈالر تھی، جو بوسٹن ڈائنامکس کے روبوٹ کتے اسپاٹ کی 75 ہزار ڈالر سے زائد قیمت کے مقابلے میں بہت کم تھی۔
2025 اور 2026 میں ہیومن نما روبوٹس کی ترقی میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ اپریل 2025 میں بیجنگ میں دنیا کی پہلی روبوٹ ہاف میراتھن کے دوران ہیومن نما روبوٹس انسانی دوڑنے والوں کے ساتھ میدان میں اترے۔
اس مقابلے نے اس وقت روبوٹ ٹیکنالوجی کی کمزوریاں بھی واضح کردیں۔ متعدد روبوٹس دوڑ مکمل نہ کرسکے، کچھ آغاز کے فوراً بعد گر گئے جبکہ بعض راستے میں رکاوٹوں سے ٹکرا گئے۔
ایک سال بعد ٹیکنالوجی میں واضح بہتری سامنے آئی۔ بیجنگ کی دوسری ہاف میراتھن میں یونٹری ایچ ون روبوٹ نے بغیر کسی انسانی معاون کے آخری مرحلہ مکمل کیا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق 2026 کے مقابلے میں شامل 100 سے زائد روبوٹ ٹیموں میں سے 47 نے دوڑ مکمل کی۔
سب سے نمایاں کارکردگی چینی اسمارٹ فون کمپنی آنر کے ہیومن نما روبوٹ ’فلیش‘ نے دکھائی، جس نے مبینہ طور پر ہاف میراتھن خودکار انداز میں 50 منٹ 26 سیکنڈ میں مکمل کی۔ یہ وقت اس سے کچھ عرصہ قبل قائم کیے گئے انسانی عالمی ریکارڈ سے بھی کم تھا۔
تجزیہ کاروں اور صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق اس تیز رفتار ترقی میں چین کی مضبوط روبوٹکس سپلائی چین، حکومتی معاونت اور پرزہ جات کی کم ہوتی قیمتوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
چینی حکومت نے بھی اس شعبے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 2021 میں روبوٹکس کے لیے جاری پانچ سالہ منصوبے میں سبسڈیز، تحقیق کے لیے مراعات اور مالی معاونت شامل تھی، جبکہ مقصد چین کو روبوٹکس ٹیکنالوجی میں عالمی سطح کا مرکز بنانا تھا۔
2026 کے ورلڈ ہیومنوئڈ روبوٹ گیمز میں روبوٹک ہاتھوں کے لیے بھی مقابلے شامل کیے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توجہ محض نمائشی مظاہروں سے بڑھ کر عملی صنعتی استعمال کی جانب منتقل ہورہی ہے۔
روبوٹس کو پیچ کسنے، بوتلیں کھولنے اور چمٹی کی مدد سے چھوٹی اشیا اٹھانے جیسے کاموں میں پرکھا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانی ہاتھ جیسی رفتار، درستگی اور لمس کی صلاحیت پیدا کرنا ہیومن نما روبوٹ کی تیاری کے مشکل ترین مراحل میں شامل ہے۔
روبوٹس کے لیے حقیقی کاموں کو مقابلوں کا حصہ بنانا اس صنعت کے سب سے بڑے چیلنج کی بھی نشاندہی کرتا ہے: یہ ثابت کرنا کہ ہیومن نما روبوٹس صرف متاثر کن مظاہروں تک محدود نہیں بلکہ حقیقی دنیا میں قابلِ اعتماد اور مفید مشینوں کے طور پر بھی کام کرسکتے ہیں۔
